صحیح بخاری حدیث ۴۶۵۱ - فتنہ اور ملک کے لیے لڑائی
فتنہ کیا ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی وضاحت
صحیح بخاری : ۴۶۵۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۵۱
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا بَيَانٌ ، أَنَّ وَبَرَةَ حَدَّثَهُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا أَوْ إِلَيْنَا ابْنُ عُمَرَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : كَيْفَ تَرَى فِي قِتَالِ الْفِتْنَةِ ؟ فَقَالَ : " وَهَلْ تَدْرِي مَا الْفِتْنَةُ ؟ كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ ، وَكَانَ الدُّخُولُ عَلَيْهِمْ فِتْنَةً ، وَلَيْسَ كَقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ " .
سعید بن جبیر روایت:
´ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے بیان نے بیان کیا، ان سے وبرہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید بن جبیر نے بیان کیا، کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس تشریف لائے، تو ایک صاحب نے ان سے پوچھا کہ` (مسلمانوں کے باہمی) فتنہ اور جنگ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے پوچھا تمہیں معلوم بھی ہے ”فتنہ“ کیا چیز ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین سے جنگ کرتے تھے اور ان میں ٹھہر جانا ہی فتنہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ تمہاری ملک و سلطنت کی خاطر جنگ کی طرح نہیں تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فتنہ اور جنگ کے بارے میں پوچھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پہلے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو فتنہ کیا ہے؟ پھر بتایا کہ محمد صلى الله عليه وسلم مشرکین سے جنگ کرتے تھے اور ان کے درمیان رہنا ہی فتنہ تھا۔ پھر انہوں نے صاف کیا کہ نبی صلى الله عليه وسلم کی جنگ تمہاری ملک و سلطنت کی خاطر جنگ جیسی نہیں تھی۔ یہ روایت فتنہ کی حدیث کے طور پر بہت اہم ہے، کیونکہ اس میں سیاسی لڑائی اور دین کی وجہ سے پیش آنے والی آزمائش میں فرق بتایا گیا ہے۔ قاری کے لیے اصل سبق یہ ہے کہ ہر لڑائی کو ایک ہی حکم میں داخل نہیں کیا جا سکتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فتنہ کا معنی سمجھنے سے پہلے اس پر حکم لگانا درست نہیں۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کی جنگ کو ملک و سلطنت کی جنگ جیسا نہیں کہا جا سکتا۔
- ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سوال کرنے والے کو اصل فرق سمجھایا۔
- دینی نصوص کو اپنی خواہش کے مطابق استعمال کرنے سے بچنا چاہیے۔
