صحیح بخاری حدیث ۴۶۵۰ - مسلمانوں کی باہمی جنگ سے احتیاط
فتنہ کے وقت مسلمانوں کی باہمی جنگ سے بچنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۶۵۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۵۰
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَلَا تَسْمَعُ مَا ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا سورة الحجرات آية 9 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ لَا تُقَاتِلَ كَمَا ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ ؟ فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، أَغْتَرُّ بِهَذِهِ الْآيَةِ وَلَا أُقَاتِلُ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَغْتَرَّ بِهَذِهِ الْآيَةِ الَّتِي ، يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا سورة النساء آية 93 إِلَى آخِرِهَا ، قَالَ : فَإِنَّ اللَّهَ ، يَقُولُ : وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ سورة البقرة آية 193 ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : قَدْ فَعَلْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ كَانَ الْإِسْلَامُ قَلِيلًا ، فَكَانَ الرَّجُلُ يُفْتَنُ فِي دِينِهِ ، إِمَّا يَقْتُلُونَهُ ، وَإِمَّا يُوثِقُونَهُ حَتَّى كَثُرَ الْإِسْلَامُ ، فَلَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ ، فَلَمَّا رَأَى أَنَّهُ لَا يُوَافِقُهُ فِيمَا يُرِيدُ ، قَالَ : فَمَا قَوْلُكَ فِي عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ ؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ : " مَا قَوْلِي فِي عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ ، أَمَّا عُثْمَانُ، فَكَانَ اللَّهُ قَدْ عَفَا عَنْهُ ، فَكَرِهْتُمْ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُ ، وَأَمَّا عَلِيٌّ ، فَابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَتَنُهُ ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ ، وَهَذِهِ ابْنَتُهُ أَوْ بِنْتُهُ حَيْثُ تَرَوْنَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
ایک شخص (حبان یا علاء بن عرار نامی) نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! آپ نے قرآن کی یہ آیت نہیں سنی «وإن طائفتان من المؤمنين اقتتلوا» کہ ”جب مسلمانوں کی دو جماعتیں لڑنے لگیں“ الخ، اس آیت کے بموجب تم (علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں سے) کیوں نہیں لڑتے جیسے اللہ نے فرمایا «فقاتلوا التي تبغيإ»۔انہوں نے کہا میرے بھتیجے! اگر میں اس آیت کی تاویل کر کے مسلمانوں سے نہ لڑوں تو یہ مجھ کو اچھا معلوم ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ میں اس آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا» کی تاویل کروں۔ وہ شخص کہنے لگا اچھا اس آیت کو کیا کرو گے جس میں مذکور ہے «وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة» کہ ”ان سے لڑو تاکہ فتنہ باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ کا ہو جائے۔“عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا (واہ، واہ) یہ لڑائی تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کر چکے، اس وقت مسلمان بہت تھوڑے تھے اور مسلمان کو اسلام اختیار کرنے پر تکلیف دی جاتی۔ قتل کرتے، قید کرتے یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا۔ مسلمان بہت ہو گئے اب فتنہ جو اس آیت میں مذکور ہے وہ کہاں رہا۔ جب اس شخص نے دیکھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کسی طرح لڑائی پر اس کے موافق نہیں ہوتے تو کہنے لگا اچھا بتلاؤ علی رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں تمہارا کیا اعتقاد ہے؟انہوں نے کہا ہاں یہ کہو تو سنو، علی اور عثمان رضی اللہ عنہما کے بارے میں اپنا اعتقاد بیان کرتا ہوں۔ عثمان رضی اللہ عنہ کا جو قصور تم بیان کرتے ہو (کہ وہ جنگ احد میں بھاگ نکلے) تو اللہ نے ان کا یہ قصور معاف کر دیا مگر تم کو یہ معافی پسند نہیں (جب تو اب تک ان پر قصور لگاتے جاتے ہو) اور علی رضی اللہ عنہ تو (سبحان اللہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور آپ داماد بھی تھے اور ہاتھ سے اشارہ کر کے بتلایا یہ ان کا گھر ہے جہاں تم دیکھ رہے ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۵۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ قرآن میں دو مسلمان جماعتوں کی لڑائی کا ذکر ہے، پھر آپ قتال کیوں نہیں کرتے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ میرے نزدیک اس آیت کی تاویل کر کے مسلمانوں سے نہ لڑنا بہتر ہے، بجائے اس کے کہ میں ومن يقتل مؤمنا متعمدا والی آیت کی تاویل میں پڑوں۔ پھر انہوں نے بتایا کہ فتنہ کے خاتمے کے لیے قتال نبی صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں اس وقت ہوا جب مسلمان کم تھے اور دین کی وجہ سے ستائے جاتے تھے۔ اس روایت میں احتیاط، آیات کو صحیح موقع پر سمجھنے، اور صحابہ کے بارے میں انصاف کا سبق ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآنی آیات کو موقع اور معنی کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔
- مسلمان کے قتل کے معاملے میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سخت احتیاط کی۔
- فتنہ کی آیت کو انہوں نے نبی صلى الله عليه وسلم کے زمانے کی حالت سے جوڑا۔
- عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں انہوں نے احترام سے بات کی۔
