صحیح بخاری حدیث ۴۶۵۹ - زکوٰۃ نہ دینے والے مال کا انجام
زکوٰۃ نہ دینے والے مال کا انجام: گنجے ناگ والی حدیث
صحیح بخاری : ۴۶۵۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۵۹
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجَ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ " .
عبدالرحمٰن اعرج روایت:
مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تمہارا خزانہ جس میں زکوٰۃ نہ دی گئی ہو قیامت کے دن گنجے ناگ کی شکل اختیار کرے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۵۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو فرماتے سنا کہ تم میں سے کسی کا خزانہ، جس کی زکوٰۃ نہ دی گئی ہو، قیامت کے دن گنجے ناگ کی شکل اختیار کرے گا۔ روایت مختصر ہے مگر پیغام بہت واضح ہے۔ مال صرف جمع کرنے کی چیز نہیں، اس میں زکوٰۃ کا حق بھی ہے۔ زکوٰۃ نہ دینے کی حدیث، خزانہ اور قیامت کا انجام جیسے موضوعات میں یہ حدیث بہت اہم ہے۔ اس حدیث سے ڈرانے کا انداز ملتا ہے، مگر ہمیں متن سے آگے بڑھ کر اضافی تفصیل نہیں بنانی چاہیے۔ اصل بات یہی ہے کہ زکوٰۃ روکنا آخرت میں سخت گرفت کا سبب بن سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جس مال پر زکوٰۃ واجب ہو اسے روکنا خطرناک عمل ہے۔
- حدیث میں زکوٰۃ نہ دیے گئے خزانے کا قیامت کے دن ذکر آیا ہے۔
- مال کے ساتھ دینی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔
- آخرت کی جواب دہی مال کے معاملے میں بھی ہوگی۔
