صحیح بخاری حدیث ۴۶۶۱ - زکوٰۃ مال کو پاک کرتی ہے
زکوٰۃ مال کی پاکی ہے: ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان
صحیح بخاری : ۴۶۶۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۶۱
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ : هَذَا قَبْلَ أَنْ تُنْزَلَ الزَّكَاةُ ، فَلَمَّا أُنْزِلَتْ جَعَلَهَا اللَّهُ طُهْرًا لِلْأَمْوَالِ .
خالد بن اسلم روایت:
ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نکلے تو انہوں نے کہا کہ یہ (مذکورہ بالا آیت) زکوٰۃ کے حکم سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ پھر جب زکوٰۃ کا حکم ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ سے مالوں کو پاک کر دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۶۱ کا خلاصہ
اس روایت میں خالد بن اسلم بیان کرتے ہیں کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نکلے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ سونا چاندی جمع کرنے والی آیت زکوٰۃ کے حکم سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ پھر جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کو مالوں کی پاکی بنا دیا۔ یہ حدیث زکوٰۃ کی حکمت کو بہت آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔ مال کی زکوٰۃ، زکوٰۃ مال کو پاک کرتی ہے، اور زکوٰۃ کا حکم جیسے موضوعات کے لیے یہ روایت خاص طور پر مفید ہے۔ اس میں کوئی لمبی بحث نہیں، بلکہ ایک صاف بات ہے کہ زکوٰۃ ادا کرنا مال کی دینی صفائی کا ذریعہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بیان کے مطابق زکوٰۃ مال کی پاکی ہے۔
- زکوٰۃ کا حکم آنے کے بعد مال کے بارے میں حکم واضح ہوا۔
- قرآنی آیت کو حکم کے زمانے کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
- مال کے معاملے میں دینی ذمہ داری ادا کرنا ضروری ہے۔
