صحیح بخاری حدیث ۴۶۶۸ - کم صدقہ بھی نیت سے قیمتی ہے
صدقہ کی حدیث: تھوڑا ہو یا زیادہ، نیت اصل ہے
صحیح بخاری : ۴۶۶۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۶۸
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : " لَمَّا أُمِرْنَا بِالصَّدَقَةِ كُنَّا نَتَحَامَلُ فَجَاءَ أَبُو عَقِيلٍ بِنِصْفِ صَاعٍ ، وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِأَكْثَرَ مِنْهُ ، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ : إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ هَذَا ، وَمَا فَعَلَ هَذَا الْآخَرُ ، إِلَّا رِئَاءً ، فَنَزَلَتْ الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلا جُهْدَهُمْ سورة التوبة آية 79 ، الْآيَةَ " .
ابومسعود انصاری روایت:
جب ہمیں خیرات کرنے کا حکم ہوا تو ہم مزدوری پر بوجھ اٹھاتے (اور اس کی مزدوری صدقہ میں دے دیتے) چنانچہ ابوعقیل اسی مزدوری سے آدھا صاع خیرات لے کر آئے اور ایک دوسرے صحابی عبدالرحمٰن بن عوف اس سے زیادہ لائے۔ اس پر منافقوں نے کہا کہ اللہ کو اس (یعنی عقیل) کے صدقہ کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور اس دوسرے (عبدالرحمٰن بن عوف) نے تو محض دکھاوے کے لیے اتنا بہت سا صدقہ دیا ہے۔ چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی «الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين في الصدقات والذين لا يجدون إلا جهدهم» کہ ”یہ ایسے لوگ ہیں جو صدقات کے بارے میں نفل صدقہ دینے والے مسلمانوں پر طعن کرتے ہیں اور خصوصاً ان لوگوں پر جنہیں بجز ان کی محنت مزدوری کے کچھ نہیں ملتا۔“ آخر آیت تک۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں صدقہ، محنت، اور منافقین کے طعن کا ذکر ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کو صدقہ کا حکم ہوا تو بعض صحابہ بوجھ اٹھا کر مزدوری کرتے اور اسی مزدوری سے صدقہ دیتے۔ ابو عقیل رضی اللہ عنہ آدھا صاع لے کر آئے، جبکہ ایک دوسرے صحابی زیادہ مال لے کر آئے۔ منافقوں نے دونوں پر بات بنائی؛ تھوڑے صدقے والے کے بارے میں کہا کہ اللہ کو اس کی ضرورت نہیں، اور زیادہ دینے والے پر ریا کا الزام لگایا۔ اس پر آیت نازل ہوئی جس میں صدقہ دینے والے مومنوں پر طعن کرنے والوں کا ذکر ہے۔ یہ صدقہ کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اصل بات مقدار پر طعن کرنا نہیں، بلکہ دینے والے کی محنت اور اخلاص کا احترام کرنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کم صدقہ دینے والے کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔
- زیادہ صدقہ دینے والے پر بلاوجہ ریا کا الزام لگانا غلط ہے۔
- محنت کی کمائی سے دیا گیا صدقہ عزت کے قابل ہے۔
- مومن کے نیک کام پر طنز کرنا منافقانہ رویہ ہے۔
