صحیح بخاری حدیث ۴۶۷۳ - سچ بولنے کی نجات

سچ بولنے کی حدیث: کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کا سبق

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۷۳

حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ ، حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ تَبُوكَ : " وَاللَّهِ مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ نِعْمَةٍ بَعْدَ إِذْ هَدَانِي ، أَعْظَمَ مِنْ صِدْقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أَكُونَ كَذَبْتُهُ فَأَهْلِكَ ، كَمَا هَلَكَ الَّذِينَ كَذَبُوا حِينَ أُنْزِلَ الْوَحْيُ ، سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ إِلَى قَوْلِهِ الْفَاسِقِينَ سورة التوبة آية 95 - 96 " .

عبداللہ بن کعب بن مالک روایت:

´ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن کعب بن مالک نے بیان کیا کہ` انہوں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان کے غزوہ تبوک میں شریک نہ ہو سکنے کا واقعہ سنا۔انہوں نے بتلایا، اللہ کی قسم! ہدایت کے بعد اللہ نے مجھ پر اتنا بڑا اور کوئی انعام نہیں کیا جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سچ بولنے کے بعد ظاہر ہوا تھا کہ اس نے مجھے جھوٹ بولنے سے بچایا، ورنہ میں بھی اسی طرح ہلاک ہو جاتا جس طرح دوسرے لوگ جھوٹی معذرتیں بیان کرنے والے ہلاک ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں وحی نازل کی تھی «سيحلفون بالله لكم إذا انقلبتم إليهم‏» کہ ”عنقریب یہ لوگ تمہارے سامنے، جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے۔ اللہ کی قسم کھا جائیں گے۔“ آخر آیت «الفاسقين‏» تک۔

صحیح بخاری حدیث ۴۶۷۳ کا خلاصہ

اس روایت کا اصل موضوع سچائی اور جھوٹی معذرت سے بچنا ہے۔ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے غزوہ تبوک میں پیچھے رہ جانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہدایت کے بعد اللہ نے ان پر سب سے بڑی نعمت یہ کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سامنے سچ بولا۔ انہوں نے صاف کہا کہ اگر وہ بھی جھوٹ بولتے تو ان لوگوں کی طرح ہلاک ہو جاتے جنہوں نے جھوٹی معذرتیں پیش کیں۔ اس حدیث میں سچ بولنے کی حدیث، کعب بن مالک کی توبہ، اور جھوٹ سے بچنے کا سبق بہت واضح ہے۔ روایت صرف اسی بات کو سامنے رکھتی ہے کہ مشکل وقت میں سچ بولنا آسان نہیں تھا، مگر یہی راستہ ان کے لیے خیر بنا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مشکل وقت میں سچ بولنا نجات کا سبب بن سکتا ہے۔
  • جھوٹی معذرت وقتی آسانی دے سکتی ہے مگر نقصان دہ ہے۔
  • اپنی غلطی ماننا ایمان والے کے لیے بہتر راستہ ہے۔
  • کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے سچائی کو اللہ کی بڑی نعمت سمجھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں