صحیح بخاری حدیث ۴۶۹۱ - مشکل باتوں پر صبر جمیل
صبر جمیل کی حدیث: اللہ ہی مدد کرنے والا ہے
صحیح بخاری : ۴۶۹۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۹۱
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمُّ رُومَانَ وَهْيَ أُمُّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : بَيْنَا أَنَا وَعَائِشَةُ أَخَذَتْهَا الْحُمَّى ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَلَّ فِي حَدِيثٍ تُحُدِّثَ " ، قَالَتْ : نَعَمْ ، وَقَعَدَتْ عَائِشَةُ ، قَالَتْ : مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَيَعْقُوبَ وَبَنِيهِ ، بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ سورة يوسف آية 18 .
ام رومان روایت:
میں اور عائشہ بیٹھے ہوئے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بخار چڑھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غالباً یہ ان باتوں کی وجہ ہوا ہو گا جن کا چرچا ہو رہا ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ اس کے بعد عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھ گئیں اور کہا کہ میری اور آپ لوگوں کی مثال یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں جیسی ہے اور آپ لوگ جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۹۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام رومان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بیٹھی تھیں، پھر عائشہ رضی اللہ عنہا کو بخار ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شاید یہ ان باتوں کی وجہ سے ہے جن کا چرچا ہو رہا ہے۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھ گئیں اور انہوں نے کہا کہ میری اور تم لوگوں کی مثال یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں جیسی ہے، اور تم جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرنے والا ہے۔ یہ روایت صبر جمیل کی حدیث کے طور پر دل کو سنبھالنے والی ہے۔ جب انسان پر ایسی بات آئے جس میں وہ خود کو بے بس محسوس کرے، تو اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا کا انداز بتایا گیا ہے: صبر اور اللہ سے مدد۔ یہاں کوئی لمبی بحث نہیں، صرف ایک سادہ مگر مضبوط رویہ ہے کہ معاملہ اللہ کے سپرد کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سخت باتوں کے وقت صبر اختیار کرنا چاہیے۔
- اللہ سے مدد مانگنا مومن کا سہارا ہے۔
- بے بنیاد باتوں کے شور میں جلد بازی سے بچنا چاہیے۔
- انبیاء کے واقعات سے صبر کا سبق لیا جا سکتا ہے۔
