صحیح بخاری حدیث ۴۶۹۰ - تہمت پر صبر اور اللہ کی مدد

تہمت پر صبر کی حدیث: فصبر جمیل واللہ المستعان

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۹۰

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : . ح ، وحَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا ، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ ، كُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً ، فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ ، وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ ، فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ " ، قُلْتُ : إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَجِدُ مَثَلًا إِلَّا أَبَا يُوسُفَ ، فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ سورة يوسف آية 18 ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ سورة النور آية 11 ، الْعَشْرَ الْآيَاتِ .

یونس بن یزید ایلی روایت:

میں زہری سے سنا، انہوں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہما کے اس واقعہ کے متعلق سنا جس میں تہمت لگانے والوں نے ان پر تہمت لگائی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی پاکی نازل کی۔ ان تمام لوگوں نے مجھ سے اس قصہ کا کچھ کچھ ٹکڑا بیان کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (عائشہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا کہ اگر تم بَری ہو تو عنقریب اللہ تعالیٰ تمہاری پاکی نازل کر دے گا لیکن اگر تو آلودہ ہو گئی ہے تو اللہ سے مغفرت طلب کر اور اس کے حضور میں توبہ کر (عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ) میں نے اس پر کہا: اللہ کی قسم! میری اور آپ کی مثال یوسف علیہ السلام کے والد جیسی ہے (اور انہیں کی کہی ہوئی بات میں بھی دہراتی ہوں کہ) «فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون‏» ”سو صبر کرنا (ہی) اچھا ہے اور تم جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے گا۔“ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاکی میں سورۃ النور کی «إن الذين جاءوا بالإفك‏» سے آخر تک دس آیات اتاریں۔

صحیح بخاری حدیث ۴۶۹۰ کا خلاصہ

یہ حدیث واقعہ افک کے ایک حصے کو بیان کرتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی گئی، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی پاکی نازل فرمائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم بری ہو تو اللہ تمہاری پاکی ظاہر فرما دے گا، اور اگر کوئی گناہ ہوا ہے تو اللہ سے مغفرت مانگو اور توبہ کرو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب میں حضرت یوسف علیہ السلام کے والد کی بات دہرائی: فصبر جمیل واللہ المستعان علی ما تصفون۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اچھا صبر اختیار کیا جائے اور جو باتیں لوگ بنا رہے ہوں، ان پر مدد اللہ ہی سے مانگی جائے۔ اس حدیث کا اصل موضوع صبر، تہمت اور اللہ کی مدد ہے۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی آیات نازل فرما کر عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاکی بیان کی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تہمت کے وقت بندہ اللہ سے مدد مانگے۔
  • صبر کا راستہ مشکل ہو سکتا ہے، مگر حدیث میں اسی کا ذکر آیا ہے۔
  • اگر انسان بری ہو تو اللہ اس کی پاکی ظاہر فرما سکتا ہے۔
  • گناہ کی صورت میں مغفرت اور توبہ کی طرف بلایا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں