صحیح بخاری حدیث ۴۶۸۹ - سب سے زیادہ عزت والا کون؟
سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ تقویٰ اور دین کی سمجھ کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۶۸۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۸۹
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيُّ النَّاسِ أَكْرَمُ ؟ قَالَ : " أَكْرَمُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاهُمْ " ، قَالُوا : لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ ، قَالَ : " فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ، ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ ، ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ ، ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ " ، قَالُوا : لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ ، قَالَ : " فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَخِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا " . تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے سوال کیا کہ انسانوں میں کون سب سے زیادہ شریف ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے زیادہ شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سب سے زیادہ شریف یوسف علیہ السلام ہیں «نبي الله ابن نبي الله ابن نبي الله ابن خليل الله»۔صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا یہ بھی مقصد نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا، عرب کے خاندانوں کے متعلق تم معلوم کرنا چاہتے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاہلیت میں جو لوگ شریف سمجھے جاتے تھے، اسلام لانے کے بعد بھی وہ شریف ہیں، جبکہ دین کی سمجھ بھی انہیں حاصل ہو جائے۔اس روایت کی متابعت ابواسامہ نے عبیداللہ سے کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۸۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ انسانوں میں سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ جب صحابہ نے بتایا کہ ان کا سوال اس معنی میں نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوسف علیہ السلام کی فضیلت بیان فرمائی۔ پھر جب بات عرب خاندانوں کے بارے میں ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ جاہلیت میں اچھے سمجھے جاتے تھے، اسلام میں بھی اچھے ہیں جب دین کی سمجھ حاصل کر لیں۔ اس حدیث کا اصل پیغام تقویٰ کی حدیث کے طور پر بہت اہم ہے۔ عزت صرف خاندان سے نہیں، بلکہ اللہ کے نزدیک تقویٰ سے ہے۔ خاندان کی پہچان اپنی جگہ ہو سکتی ہے، مگر دین کی سمجھ کے بغیر اصل بلندی نہیں بنتی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے نزدیک اصل عزت تقویٰ سے ہے۔
- یوسف علیہ السلام کی فضیلت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر بیان فرمائی۔
- دین کی سمجھ انسان کی خوبی کو مکمل کرتی ہے۔
- خاندانی پہچان کو تقویٰ اور علم دین سے الگ کر کے اصل معیار نہیں بنایا جا سکتا۔
