صحیح بخاری حدیث ۴۶۸۸ - یوسف علیہ السلام کی بزرگی
یوسف علیہ السلام کی فضیلت: کریم بن کریم کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۶۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۸۸
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ، يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کریم بن کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم تھے۔(علیہم الصلٰوۃ والسلام)۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۸۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوسف علیہ السلام کی نسبت بہت خوبصورت الفاظ بیان فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کریم بن کریم بن کریم بن کریم، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہیں۔ اس حدیث میں اصل بات حضرت یوسف علیہ السلام کی فضیلت اور ان کے مبارک نسب کا ذکر ہے۔ یہاں نسب کا بیان فخر کے لیے نہیں، بلکہ ایک نبی کے مقام کو پہچاننے کے لیے ہے۔ یوسف علیہ السلام خود بھی اللہ کے نبی تھے، ان کے والد یعقوب علیہ السلام بھی نبی تھے، ان کے دادا اسحاق علیہ السلام بھی نبی تھے، اور ان کے پردادا ابراہیم علیہ السلام بھی اللہ کے بڑے خلیل تھے۔ اس لیے یوسف علیہ السلام کی حدیث میں لفظ کریم بار بار آتا ہے۔ یہ روایت ہمیں انبیاء کرام کے احترام اور ان کے مقام کو سمجھنے کی طرف لے جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یوسف علیہ السلام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کریم بن کریم فرمایا۔
- انبیاء کرام کا ذکر عزت اور ادب کے ساتھ کرنا چاہیے۔
- فضیلت کا بیان حدیث کے الفاظ کے مطابق کرنا چاہیے۔
- یوسف، یعقوب، اسحاق اور ابراہیم علیہم السلام سب اللہ کے برگزیدہ بندے تھے۔
