صحیح بخاری حدیث ۴۶۸۷ - نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں
نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں: نماز اور توبہ کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۶۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۸۷
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ : وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 قَالَ الرَّجُلُ : أَلِيَ هَذِهِ ؟ قَالَ : " لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي " .
ابن مسعود روایت:
ایک شخص نے کسی غیر عورت کو بوسہ دے دیا اور پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اپنا گناہ بیان کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وأقم الصلاة طرفى النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين» ”اور تم نماز کی پابندی کرو دن کے دونوں سروں پر اور رات کے کچھ حصوں میں بیشک نیکیاں مٹا دیتی ہیں بدیوں کو، یہ ایک نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کے لیے۔“ان صاحب نے عرض کیا یہ آیت صرف میرے ہی لیے ہے (کہ نیکیاں بدیوں کو مٹا دیتی ہیں)؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے ہر انسان کے لیے ہے جو اس پر عمل کرے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۸۷ کا خلاصہ
یہ حدیث ایک شخص کے واقعے سے شروع ہوتی ہے جس نے ایک غیر عورت کو بوسہ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنا گناہ بیان کیا۔ اس پر آیت نازل ہوئی کہ دن کے دونوں کناروں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کرو، بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ اس شخص نے پوچھا کہ کیا یہ حکم صرف میرے لیے ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے جو اس پر عمل کرے، اس کے لیے ہے۔ اس حدیث کا اصل پیغام نماز کی پابندی اور نیکیوں کی طرف پلٹنے کا ہے۔ یہ روایت گناہ کے بعد مایوسی نہیں سکھاتی، بلکہ انسان کو اللہ کی طرف واپس آنے کی راہ دکھاتی ہے۔ مگر یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ حدیث میں جو بات آئی ہے، وہ اسی آیت اور اس پر عمل کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اس لیے بندے کو گناہ چھپانے کے بجائے نیکی، نماز اور توبہ کی طرف آنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گناہ کے بعد اللہ کی طرف پلٹنا اور نیکی کرنا ضروری ہے۔
- نماز انسان کو اصلاح کی طرف لاتی ہے۔
- نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں، جیسا کہ اس آیت میں بتایا گیا۔
- یہ حکم صرف ایک شخص کے لیے نہیں، بلکہ امت میں جو اس پر عمل کرے اس کے لیے ہے۔
