صحیح بخاری حدیث ۴۶۸۶ - ظالم کو مہلت اور اللہ کی پکڑ
ظلم کی سزا کی حدیث: اللہ ظالم کو مہلت دیتا ہے
صحیح بخاری : ۴۶۸۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۸۶
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ ، قَالَ : ثُمَّ قَرَأَ وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ سورة هود آية 102 " .
ابوموسیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو چند روز دنیا میں مہلت دیتا رہتا ہے لیکن جب پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهى ظالمة إن أخذه أليم شديد» ”اور تیرے پروردگار کی پکڑ اسی طرح ہے، جب وہ بستی والوں کو پکڑتا ہے۔ جو (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہتے ہیں، بیشک اس کی پکڑ بڑی تکلیف دینے والی اور بڑی ہی سخت ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۶۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ظلم کے انجام کو صاف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا رہتا ہے، لیکن جب اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ ہود کی آیت تلاوت فرمائی جس میں اللہ کی پکڑ کو دردناک اور سخت کہا گیا ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ ظالم کا بچ جانا کامیابی ہے، بلکہ مہلت بھی آزمائش ہو سکتی ہے۔ ظلم کی حدیث اردو تلاش کرنے والے عموماً یہی بات جاننا چاہتے ہیں کہ اللہ ظالم کو فوراً کیوں نہیں پکڑتا۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ دیر ہونا بھول جانا نہیں۔ بندے کو چاہیے کہ کسی پر ظلم نہ کرے، اور اگر کر بیٹھے تو توبہ کرے اور حق واپس کرے۔ حدیث کا پیغام بہت سیدھا ہے: ظلم کا راستہ وقتی فائدہ دے سکتا ہے، مگر اللہ کی پکڑ سے کوئی بچ نہیں سکتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ظالم کو دنیا میں مہلت ملنا اس کے حق میں لازمی طور پر خیر نہیں۔
- اللہ کی پکڑ جب آتی ہے تو بہت سخت ہوتی ہے۔
- ظلم سے بچنا اور لوگوں کے حقوق ادا کرنا ضروری ہے۔
- قرآن کی آیات حدیث کے پیغام کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
