صحیح بخاری حدیث ۴۷۰۲ - اصحاب حجر سے عبرت

اصحاب حجر کی حدیث: عذاب والی بستیوں سے عبرت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۰۲

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِ الْحِجْرِ : " لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ ، فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ ، فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب حجر کے متعلق فرمایا تھا کہ اس قوم کی بستی سے جب گزرنا ہی پڑ گیا ہے تو روتے ہوئے گزرو اور اگر روتے ہوئے نہیں گزر سکتے تو پھر اس میں نہ جاؤ۔ کہیں تم پر بھی وہی عذاب نہ آئے جو ان پر آیا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۷۰۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب حجر کے بارے میں ہدایت فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان لوگوں کی بستی میں داخل نہ ہو مگر اس حال میں کہ روتے ہوئے ہو۔ اگر رونے کی کیفیت نہیں تو ان کے پاس داخل نہ ہو، کہیں تمہیں بھی وہی عذاب نہ پہنچے جو انہیں پہنچا تھا۔ اصحاب حجر کی حدیث ہمیں سیر و سفر یا تاریخی مقامات کے بارے میں ایک سنجیدہ رویہ سکھاتی ہے۔ ایسی جگہ کو محض تماشا، فخر یا دلچسپی کی چیز نہیں بنانا چاہیے، بلکہ دل میں خوف اور عبرت ہونی چاہیے۔ حدیث کا اصل موضوع عبرت اور اللہ کے عذاب سے ڈر ہے۔ اس میں جو بات آئی ہے وہ خاص طور پر اصحاب حجر کے مقام سے متعلق ہے، اس لیے اس سے اضافی قصے جوڑنے کے بجائے متن ہی کی بات پر رکنا بہتر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عذاب والی قوموں کی جگہوں سے گزرتے وقت عبرت ہونی چاہیے۔
  • ایسی جگہوں کو بے فکری یا تماشے کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روتے ہوئے گزرنے کی ہدایت فرمائی۔
  • اللہ کے عذاب سے ڈر انسان کو سنجیدہ بناتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں