صحیح بخاری حدیث ۴۷۰۳ - قرآن کی سب سے عظیم سورت
سورۃ فاتحہ کی فضیلت: قرآن کی سب سے عظیم سورت
صحیح بخاری : ۴۷۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۰۳
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى ، قَالَ : مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُصَلِّي ، فَدَعَانِي فَلَمْ آتِهِ حَتَّى صَلَّيْتُ ، ثُمَّ أَتَيْتُ ، فَقَالَ : " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنِي ؟ " فَقُلْتُ : كُنْتُ أُصَلِّي ، فَقَالَ : " أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ سورة الأنفال آية 24 ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ ، قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ " ، فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَذَكَّرْتُهُ ، فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ ، الَّذِي أُوتِيتُهُ " .
ابوسعید بن معلی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا۔ میں نماز سے فارغ ہونے کے بعد خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ فوراً ہی کیوں نہ آئے؟ عرض کیا کہ نماز پڑھ رہا تھا۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اللہ نے تم لوگوں کو حکم نہیں دیا ہے کہ اے ایمان والو! جب اللہ اور اس کے رسول تمہیں بلائیں تو لبیک کہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیوں نہ آج میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن کی سب سے عظیم سورت بتاؤں۔ پھر آپ (بتانے سے پہلے) مسجد سے باہر تشریف لے جانے کے لیے اٹھے تو میں نے بات یاد دلائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورۃ فاتحہ «الحمد لله رب العالمين» یہی سبع مثانی ہے اور یہی قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا، وہ نماز سے فارغ ہو کر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ فوراً کیوں نہ آئے؟ انہوں نے کہا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم کی طرف توجہ دلائی کہ جب اللہ اور اس کا رسول بلائیں تو جواب دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد سے نکلنے سے پہلے تمہیں قرآن کی سب سے عظیم سورت بتاؤں گا۔ جب انہوں نے یاد دلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الحمد للہ رب العالمین، یہی سبع مثانی ہے اور یہی قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا۔ سورۃ فاتحہ کی فضیلت حدیث میں صاف طور پر بیان ہوئی کہ فاتحہ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم کہا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورۃ فاتحہ کو قرآن کی سب سے عظیم سورت فرمایا گیا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار کا جواب دینا اہم ہے۔
- سورۃ فاتحہ کو سبع مثانی کہا گیا ہے۔
- علم یاد دلانے اور پوچھنے سے حاصل ہوتا ہے۔
