صحیح بخاری حدیث ۴۷۰۱ - قرات اور روایت کی احتیاط
قرات کی احتیاط: حدیث کے الفاظ کیسے نقل کیے جائیں
صحیح بخاری : ۴۷۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۰۱
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : إِذَا قَضَى اللَّهُ الْأَمْرَ وَزَادَ وَالْكَاهِنِ ، وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، فَقَالَ عَمْرٌو : سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : إِذَا قَضَى اللَّهُ الْأَمْرَ ، وَقَالَ : عَلَى فَمْ السَّاحِرِ ، قُلْتُ لِسُفْيَانَ : آنْتَ سَمِعْتَ عَمْرًا ؟ قَالَ : سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ لِسُفْيَانَ : إِنَّ إِنْسَانًا رَوَى عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَيَرْفَعُهُ ، أَنَّهُ قَرَأَ فُرِّغَ ، قَالَ سُفْيَانُ : هَكَذَا قَرَأَ عَمْرٌو ، فَلَا أَدْرِي سَمِعَهُ هَكَذَا أَمْ لَا ، قَالَ سُفْيَانُ : وَهِيَ قِرَاءَتُنَا .
ابوہریرہ روایت:
اس میں یوں ہے جب اللہ پاک کوئی حکم دیتا ہے اور «ساحر» کے بعد اس روایت میں «كاهن.» کا لفظ زیادہ کیا۔ علی نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ عمرو نے کہا میں نے عکرمہ سے سنا، انہوں نے کہا ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ پاک کوئی حکم دیتا ہے اور اس روایت میں «على فم الساحر.» کا لفظ ہے۔علی بن عبداللہ نے کہا میں نے سفیان بن عیینہ سے پوچھا کہ تم نے عمرو بن دینار سے خود سنا، وہ کہتے تھے میں نے عکرمہ سے سنا، وہ کہتے تھے میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا ہاں۔ علی بن عبداللہ نے کہا میں نے سفیان بن عیینہ سے کہا۔ ایک آدمی (نام نامعلوم) نے تو تم سے یوں روایت کی تم نے عمرو سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے اس حدیث کو مرفوع کیا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «فزع» پڑھا۔ سفیان نے کہا میں نے عمرو کو اس طرح پڑھتے سنا اب میں نہیں جانتا انہوں نے عکرمہ سے سنا یا نہیں سنا۔ سفیان نے کہا ہماری بھی قرآت یہی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۰۱ کا خلاصہ
اس روایت میں قرات اور روایت کے الفاظ کے بارے میں احتیاط کا انداز نظر آتا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ کوئی حکم دیتا ہے، پھر روایت میں ساحر اور کاہن کے الفاظ کا ذکر آیا۔ علی بن عبداللہ نے سفیان بن عیینہ سے پوچھا کہ کیا انہوں نے عمرو بن دینار سے خود سنا؟ سفیان نے جواب دیا کہ ہاں۔ پھر ایک دوسرے طریقے کا ذکر ہوا جس میں فزع یا فرغ کی قرات کا سوال آیا۔ سفیان نے کہا کہ میں نے عمرو کو اسی طرح پڑھتے سنا، لیکن مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے عکرمہ سے اسی طرح سنا یا نہیں۔ یہ حدیث قرات کی حدیث کے طور پر ہمیں بتاتی ہے کہ علم والے لوگ الفاظ، سماع اور نسبت میں بہت احتیاط کرتے تھے۔ جہاں یقین ہو وہاں کہتے، اور جہاں یقین نہ ہو وہاں صاف بتا دیتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث اور قرات کے الفاظ نقل کرتے وقت احتیاط لازم ہے۔
- راوی اپنے سماع کے بارے میں وضاحت کرتے تھے۔
- جہاں یقین نہ ہو، وہاں صاف کہنا علمی امانت ہے۔
- قرات کے اختلاف کو علم کے ساتھ سمجھنا چاہیے، اندازے سے نہیں۔
