صحیح بخاری حدیث ۴۷۰۵ - قرآن کو ٹکڑے کرنے والوں کی تفسیر

قرآن کو ٹکڑے کرنے والی آیت: ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۰۵

حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْءَانَ عِضِينَ سورة الحجر آية 91 ، قَالَ : " هُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ ، جَزَّءُوهُ أَجْزَاءً فَآمَنُوا بِبَعْضِهِ ، وَكَفَرُوا بِبَعْضِهِ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

آیت «الذين جعلوا القرآن عضين‏» ”جنہوں نے قرآن کے ٹکڑے کر رکھے ہیں“ کے متعلق کہا کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں کہ انہوں نے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۷۰۵ کا خلاصہ

اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سورۃ الحجر کی آیت الذين جعلوا القرآن عضين کی تفسیر بیان فرمائی۔ آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ جنہوں نے قرآن کے ٹکڑے کر رکھے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں، انہوں نے اسے حصوں میں بانٹ دیا، کچھ پر ایمان لائے اور کچھ کا انکار کیا۔ اس روایت کا اصل موضوع قرآن کے ساتھ رویہ ہے۔ قرآن کو اپنی پسند کے حصوں تک محدود کرنا اور دوسرے حصوں کا انکار کرنا درست نہیں۔ قرآن کو ٹکڑے کرنے والی آیت کی تفسیر تلاش کرنے والوں کے لیے یہ روایت بتاتی ہے کہ صحابی رضی اللہ عنہ نے اس آیت کا مصداق اہل کتاب بیان کیا۔ متن میں یہی بات موجود ہے، اس لیے اسی حد میں رہ کر سمجھنا چاہیے۔ قرآن کے ساتھ ایمان کا معاملہ پورے احترام اور قبول کے ساتھ ہونا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن کو پسند و ناپسند کے حصوں میں بانٹنا درست رویہ نہیں۔
  • ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت میں اہل کتاب مراد بتائے۔
  • کچھ ماننا اور کچھ کا انکار کرنا مذموم عمل ہے۔
  • قرآن کی تفسیر میں صحابہ کرام کے بیان کو اہمیت دینی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں