صحیح بخاری حدیث ۴۷۰۰ - نعمت کو کفر سے بدلنے والے
نعمت کو کفر سے بدلنے والی آیت کی تفسیر
صحیح بخاری : ۴۷۰۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۰۰
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ : أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا سورة إبراهيم آية 28 ، قَالَ : " هُمْ كُفَّارُ أَهْلِ مَكَّةَ " .
ابن عباس روایت:
آیت «ألم تر إلى الذين بدلوا نعمة الله كفرا» میں کفار سے اہل مکہ مراد ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۰۰ کا خلاصہ
اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۃ ابراہیم کی آیت کے بارے میں ایک مختصر مگر اہم بات نقل ہوئی ہے۔ آیت میں فرمایا گیا: کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس سے مراد اہل مکہ کے کافر ہیں۔ اس حدیث یا اثر کا اصل موضوع آیت کی تفسیر ہے۔ یہاں ہمیں کوئی لمبا واقعہ بیان نہیں کیا گیا، بلکہ صحابی رضی اللہ عنہ کی طرف سے آیت کے ایک لفظ کی تعیین بیان ہوئی ہے۔ قرآن کی تفسیر حدیث تلاش کرنے والوں کے لیے یہ روایت بتاتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آیات کے مصداق کو واضح کرتے تھے۔ اس متن میں صرف اتنی بات موجود ہے کہ اس آیت میں کفار سے اہل مکہ مراد ہیں، اس لیے اس سے آگے کوئی اضافی تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کی آیت کا مصداق صحابہ کرام کے بیان سے سمجھ آتا ہے۔
- نعمت کو کفر سے بدلنا سخت مذموم بات ہے۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت میں اہل مکہ کے کفار مراد لیے۔
- تفسیر میں متن کے اندر رہ کر بات کرنی چاہیے۔
