صحیح بخاری حدیث ۴۶۹۹ - قبر میں ایمان والوں کی گواہی
قبر کے سوالات کی حدیث: قول ثابت کی برکت
صحیح بخاری : ۴۶۹۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۹۹
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُسْلِمُ إِذَا سُئِلَ فِي الْقَبْرِ ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ : يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 " .
براء بن عازب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان سے جب قبر میں سوال ہو گا تو وہ گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ”اللہ ایمان والوں کی اس پکی بات (کی برکت) سے مضبوط رکھتا ہے، دنیوی زندگی میں (بھی) اور آخرت میں (بھی)“ کا یہی مطلب ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں قبر کے سوال اور ایمان والے کے جواب کا ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان سے جب قبر میں سوال ہوگا تو وہ گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے کہ اللہ ایمان والوں کو پکی بات کے ذریعے دنیا اور آخرت میں ثابت رکھتا ہے۔ قبر کے سوالات حدیث تلاش کرنے والے عموماً یہی جاننا چاہتے ہیں کہ مومن کا جواب کیا ہوگا۔ اس روایت میں جواب صاف ہے: توحید اور رسالت کی گواہی۔ حدیث کا اصل موضوع قول ثابت، ایمان اور قبر کا سوال ہے۔ اس میں لمبی تفصیل نہیں، بلکہ مختصر اور مضبوط بات ہے کہ ایمان والی گواہی آخرت میں بھی مدد کا ذریعہ بنتی ہے، اللہ کے حکم سے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قبر میں مسلمان سے سوال ہوگا۔
- مومن لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی گواہی دے گا۔
- قول ثابت سے مراد ایمان والی پکی بات ہے۔
- دنیا اور آخرت میں ثابت قدمی اللہ کے حکم سے ہے۔
