صحیح بخاری حدیث ۴۶۸۵ - قیامت کے دن مومن کی مغفرت
قیامت کے دن مغفرت کی حدیث: مومن کے گناہوں پر اللہ کا پردہ
صحیح بخاری : ۴۶۸۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۸۵
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، وَهِشَامٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، قَالَ : بَيْنَا ابْنُ عُمَرَ يَطُوفُ ، إِذْ عَرَضَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَوْ قَالَ : يَا ابْنَ عُمَرَ ، سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّجْوَى ، فَقَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يُدْنَى الْمُؤْمِنُ مِنْ رَبِّهِ " ، وَقَالَ هِشَامٌ : يَدْنُو الْمُؤْمِنُ حَتَّى يَضَعَ عَلَيْهِ كَنَفَهُ ، فَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ ، تَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا ، يَقُولُ : أَعْرِفُ ، يَقُولُ : رَبِّ أَعْرِفُ ، مَرَّتَيْنِ ، فَيَقُولُ : سَتَرْتُهَا فِي الدُّنْيَا ، وَأَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ ، ثُمَّ تُطْوَى صَحِيفَةُ حَسَنَاتِهِ ، وَأَمَّا الْآخَرُونَ أَوِ الْكُفَّارُ ، فَيُنَادَى عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ ، هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ ، أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ سورة هود آية 18 ، وَقَالَ شَيْبَانُ : عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ .
صفوان بن محرز روایت:
´ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ اور ہشام بن ابی عبداللہ دستوائی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے صفوان بن محرز نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما طواف کر رہے تھے کہ` ایک شخص نام نامعلوم آپ کے سامنے آیا اور پوچھا: اے ابوعبدالرحمٰن! یا یہ کہا کہ اے ابن عمر! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کے متعلق کچھ سنا ہے (جو اللہ تعالیٰ مؤمنین سے قیامت کے دن کرے گا)۔انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ مومن اپنے رب کے قریب لایا جائے گا۔ اور ہشام نے «يدنو المؤمن» (بجائے «يدنى المؤمن» کہا) مطلب ایک ہی ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا ایک جانب اس پر رکھے گا اور اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا کہ فلاں گناہ تجھے یاد ہے؟بندہ عرض کرے گا، یاد ہے، میرے رب! مجھے یاد ہے، دو مرتبہ اقرار کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تمہارے گناہوں کو چھپائے رکھا اور آج بھی تمہاری مغفرت کروں گا۔ پھر اس کی نیکیوں کا دفتر لپیٹ دیا جائے گا۔ لیکن دوسرے لوگ یا (یہ کہا کہ) کفار تو ان کے متعلق محشر میں اعلان کیا جائے گا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا۔اور شیبان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہ ہم سے صفوان نے بیان کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۸۵ کا خلاصہ
یہ حدیث قیامت کے دن مومن کی مغفرت کے بارے میں بہت دل کو چھو لینے والی بات بتاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن اپنے رب کے قریب کیا جائے گا، پھر اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرایا جائے گا۔ بندہ کہے گا کہ اے میرے رب! مجھے یاد ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تمہارے گناہوں کو چھپایا تھا اور آج بھی تمہیں معاف کرتا ہوں۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ بندہ اپنے گناہوں کو ہلکا نہ سمجھے، لیکن اللہ کی رحمت اور پردہ پوشی سے امید بھی رکھے۔ ساتھ ہی حدیث میں یہ بھی آیا کہ دوسرے لوگوں یا کافروں کے بارے میں محشر میں اعلان ہوگا کہ انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا۔ اس لیے یہ حدیث مغفرت، حساب کتاب اور اللہ کے سامنے سچائی کی یاد دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مومن کو اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے اللہ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے۔
- اللہ تعالیٰ دنیا میں بندے کے عیب چھپاتا ہے اور قیامت میں بھی جسے چاہے معاف فرماتا ہے۔
- اللہ پر جھوٹ باندھنا بہت سخت معاملہ ہے، اس سے بچنا ضروری ہے۔
- قیامت کے دن حساب ہوگا، اس لیے دنیا میں توبہ اور اصلاح کی فکر رکھنی چاہیے۔
