صحیح بخاری حدیث ۲۴۴۱ - اللہ کی پردہ پوشی اور مغفرت

مومن کے حساب کی حدیث: اللہ کی پردہ پوشی اور مغفرت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۴۱

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ ، قَالَ : " بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، آخِذٌ بِيَدِهِ إِذْ عَرَضَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَى ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يُدْنِي الْمُؤْمِنَ ، فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ وَيَسْتُرُهُ ، فَيَقُولُ : أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا ، أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا ، فَيَقُولُ : نَعَمْ ، أَيْ رَبِّ حَتَّى إِذَا قَرَّرَهُ بِذُنُوبِهِ ، وَرَأَى فِي نَفْسِهِ أَنَّهُ هَلَكَ ، قَالَ : سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا ، وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ ، فَيُعْطَى كِتَابَ حَسَنَاتِهِ ، وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُونَ ، فَيَقُولُ : الْأَشْهَادُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ ، أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ " .

صفوان بن محرز مازنی روایت:

میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے جا رہا تھا۔ کہ ایک شخص سامنے آیا اور پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے (قیامت میں اللہ اور بندے کے درمیان ہونے والی) سرگوشی کے بارے میں کیا سنا ہے؟عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے نزدیک بلا لے گا اور اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا اور اسے چھپا لے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا تجھ کو فلاں گناہ یاد ہے؟ کیا فلاں گناہ تجھ کو یاد ہے؟ وہ مومن کہے گا ہاں، اے میرے پروردگار۔آخر جب وہ اپنے گناہوں کا اقرار کر لے گا اور اسے یقین آ جائے گا کہ اب وہ ہلاک ہوا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تیرے گناہوں پر پردہ ڈالا۔ اور آج بھی میں تیری مغفرت کرتا ہوں، چنانچہ اسے اس کی نیکیوں کی کتاب دے دی جائے گی، لیکن کافر اور منافق کے متعلق ان پر گواہ (ملائکہ، انبیاء، اور تمام جن و انس سب) کہیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا تھا۔ خبردار ہو جاؤ! ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہو گی۔

صحیح بخاری حدیث ۲۴۴۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی پردہ پوشی اور مغفرت ہے۔ ایک مومن کو اللہ اپنے قریب بلائے گا، اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا، پھر فرمائے گا کہ دنیا میں بھی ان پر پردہ ڈالا تھا اور آج بھی انہیں بخش دیتا ہوں۔ اس سے بندے کو یہ سمجھ آتی ہے کہ گناہ کو ہلکا نہ سمجھے، مگر اللہ کی رحمت سے بھی مایوس نہ ہو۔ یہ مومن کے حساب کی حدیث ہے، جس میں عیب چھپانے، گناہوں کے اقرار اور اللہ کی بخشش کا ذکر ہے۔ دوسری طرف کافر اور منافق کے بارے میں گواہوں کا بیان آئے گا کہ انہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا۔ اس لیے ایمان، سچائی اور توبہ کی طرف دل کو متوجہ رکھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مومن کو اپنے گناہوں کا احساس اور اقرار کرنا چاہیے۔
  • اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی پردہ ڈالتا ہے اور قیامت میں بھی بخش سکتا ہے۔
  • کافر اور منافق کے جھوٹ کا معاملہ قیامت میں ظاہر کیا جائے گا۔
  • گناہ کو معمولی نہ سمجھا جائے، مگر اللہ کی رحمت سے ناامید بھی نہ ہوا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں