صحیح بخاری حدیث ۲۴۴۰ - مظالم کا بدلہ اور جنت
مظالم کا حساب: جنت سے پہلے حقوق کی صفائی
صحیح بخاری : ۲۴۴۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۴۰
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ ، حُبِسُوا بِقَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، فَيَتَقَاصُّونَ مَظَالِمَ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا ، حَتَّى إِذَا نُقُّوا وَهُذِّبُوا أُذِنَ لَهُمْ بِدُخُولِ الْجَنَّةِ ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَأَحَدُهُمْ بِمَسْكَنِهِ فِي الْجَنَّةِ أَدَلُّ بِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا " . وَقَالَ يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ .
ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب مومنوں کو دوزخ سے نجات مل جائے گی تو انہیں ایک پل پر جو جنت اور دوزخ کے درمیان ہو گا روک لیا جائے گا اور وہیں ان کے مظالم کا بدلہ دے دیا جائے گا۔ جو وہ دنیا میں باہم کرتے تھے۔ پھر جب پاک صاف ہو جائیں گے تو انہیں جنت میں داخلہ کی اجازت دی جائے گی۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، ان میں سے ہر شخص اپنے جنت کے گھر کو اپنے دنیا کے گھر سے بھی بہتر طور پر پہچانے گا۔یونس بن محمد نے بیان کیا کہ ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے ابوالمتوکل نے بیان کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۴۰ کا خلاصہ
یہ حدیث حقوق العباد اور مظالم کے حساب کے بارے میں بہت گہرا مگر صاف پیغام دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مومن دوزخ سے نجات پا لیں گے تو انہیں جنت اور دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا۔ وہاں دنیا میں ایک دوسرے پر کیے گئے مظالم کا بدلہ دے دیا جائے گا۔ پھر جب وہ پاک صاف کر دیے جائیں گے تو انہیں جنت میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر فرمایا کہ ہر شخص جنت میں اپنے گھر کو دنیا کے گھر سے بھی زیادہ پہچانے گا۔ اس حدیث میں اصل سبق یہ ہے کہ لوگوں کے حقوق معمولی نہیں، جنت سے پہلے بھی ان کا حساب ہو گا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مومنوں کے باہمی مظالم کا حساب جنت سے پہلے ہو گا۔
- حقوق العباد کو ہلکا نہیں سمجھنا چاہیے۔
- پاک صاف ہونے کے بعد جنت میں داخلے کی اجازت ملے گی۔
- جنت میں ہر شخص اپنا گھر پہچان لے گا۔
