صحیح بخاری حدیث ۶۵۳۴ - ظلم معاف کرانے کی حدیث

ظلم معاف کرانے کی حدیث: آخرت میں نیکیوں سے حق ادا ہوگا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۳۴

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلِمَةٌ لِأَخِيهِ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهَا ، فَإِنَّهُ لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُؤْخَذَ لِأَخِيهِ مِنْ حَسَنَاتِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ أَخِيهِ ، فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے اپنے کسی بھائی پر ظلم کیا ہو تو اسے چاہئے کہ اس سے (اس دنیا میں) معاف کرا لے۔ اس لیے کہ آخرت میں روپے پیسے نہیں ہوں گے۔ اس سے پہلے (معاف کرا لے) کہ اس کے بھائی کے لیے اس کی نیکیوں میں سے حق دلایا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو اس (مظلوم) بھائی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۵۳۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع ظلم اور حقوق العباد ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جس کے ذمے اپنے بھائی کا کوئی ظلم ہو وہ اس سے اسی دنیا میں معاف کرا لے۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ آخرت میں دینار اور درہم نہیں ہوں گے۔ وہاں اگر کسی کا حق باقی ہوگا تو ظالم کی نیکیوں میں سے مظلوم کو دیا جائے گا۔ اگر ظالم کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔ یہ حقوق العباد کی حدیث بہت سیدھی بات سمجھاتی ہے کہ لوگوں کے ساتھ زیادتی کو ہلکا نہ سمجھا جائے۔ معافی، حق کی ادائیگی اور معاملہ صاف کرنا دنیا ہی میں ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کسی پر ظلم کیا ہو تو دنیا میں ہی معافی مانگنی چاہیے۔
  • آخرت میں روپے پیسے کام نہیں آئیں گے۔
  • حقوق العباد کا بدلہ نیکیوں اور برائیوں کے ذریعے لیا جائے گا۔
  • لوگوں کے حقوق صاف کیے بغیر مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں