صحیح بخاری حدیث ۶۵۳۹ - کھجور کے ٹکڑے سے صدقہ
کھجور کے ٹکڑے سے صدقہ: جہنم سے بچنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۵۳۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۳۹
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ : حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خَيْثَمَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَسَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ بَيْنَ اللَّهِ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ ، ثُمَّ يَنْظُرُ فَلَا يَرَى شَيْئًا قُدَّامَهُ ، ثُمَّ يَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ " .
عدی بن حاتم روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں ہر ہر فرد سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس طرح کلام کرے گا کہ اللہ کے اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا۔ پھر وہ دیکھے گا تو اس کے آگے کوئی چیز نظر نہیں آئے گی۔ پھر وہ اپنے سامنے دیکھے گا اور اس کے سامنے آگ ہو گی۔ پس تم میں سے جو شخص بھی چاہے کہ وہ آگ سے بچے تو وہ اللہ کی راہ میں خیر خیرات کرتا رہے، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ ہی ممکن ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع صدقہ اور قیامت کے دن اللہ کے سامنے پیشی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام کرے گا، اور اللہ اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا۔ پھر انسان دیکھے گا تو اس کے سامنے آگ ہوگی۔ اس کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو شخص آگ سے بچنا چاہے وہ خیرات کرے، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی ہو۔ یہ صدقہ کی حدیث بہت آسان انداز میں بتاتی ہے کہ چھوٹی نیکی کو بھی معمولی نہ سمجھا جائے۔ حدیث میں اصل زور یہ ہے کہ قیامت کی پیشی حقیقی ہے اور انسان کو جو ممکن ہو خیر کے کام میں لگانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کے دن اللہ ہر شخص سے بلا ترجمان کلام کرے گا۔
- انسان اپنے سامنے آگ دیکھے گا جیسا حدیث میں آیا ہے۔
- کھجور کے ایک ٹکڑے جتنا صدقہ بھی خیر کا عمل ہے۔
- جہنم سے بچنے کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق نیکی کرنی چاہیے۔
