صحیح بخاری حدیث ۶۵۳۳ - ناحق خون کا حساب
ناحق خون کا حساب: قیامت کے پہلے فیصلے کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۵۳۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۳۳
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ بِالدِّمَاءِ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے پہلے جس چیز کا فیصلہ لوگوں کے درمیان ہو گا وہ ناحق خون کے بدلہ کا ہو گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۵۳۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع ناحق خون اور قیامت کا فیصلہ ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کے درمیان سب سے پہلے جس چیز کا فیصلہ ہوگا وہ خون کے بارے میں ہوگا۔ حدیث مختصر ہے مگر اس کا پیغام بہت واضح ہے۔ کسی انسان کا ناحق خون بہانا معمولی بات نہیں۔ قیامت کے دن لوگوں کے حقوق کا حساب ہوگا اور خون کا معاملہ سب سے پہلے فیصلوں میں آئے گا۔ یہ ناحق قتل کی حدیث انسان کو ظلم، زیادتی اور جان کے معاملے میں بہت محتاط کرتی ہے۔ یہاں کوئی لمبی تفصیل نہیں دی گئی، مگر اتنا کافی ہے کہ خون کا حق اللہ کے سامنے بہت بڑا معاملہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کے دن خون کے معاملات کا فیصلہ بہت پہلے ہوگا۔
- ناحق خون بہانا حدیث کے مطابق انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔
- لوگوں کے حقوق اللہ کے سامنے نظر انداز نہیں ہوں گے۔
- انسان کو جان، ظلم اور زیادتی کے معاملے میں سخت احتیاط کرنی چاہیے۔
