صحیح بخاری حدیث ۶۵۳۲ - قیامت کے دن پسینے کی شدت
قیامت کے دن پسینہ: ستر ہاتھ تک پھیلنے والی حدیث
صحیح بخاری : ۶۵۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۳۲
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَعْرَقُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَذْهَبَ عَرَقُهُمْ فِي الْأَرْضِ سَبْعِينَ ذِرَاعًا ، وَيُلْجِمُهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ آذَانَهُمْ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن لوگ پسینے میں شرابور ہو جائیں گے اور حالت یہ ہو جائے گی کہ تم میں سے ہر کسی کا پسینہ زمین پر ستر ہاتھ تک پھیل جائے گا اور منہ تک پہنچ کر کانوں کو چھونے لگے گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۵۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قیامت کے دن پسینے کی شدت ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگ پسینے میں ڈوب جائیں گے۔ حدیث کے الفاظ کے مطابق پسینہ زمین میں ستر ہاتھ تک چلا جائے گا اور پھر منہ تک پہنچ کر کانوں کو چھونے لگے گا۔ یہ بیان ہمیں قیامت کی سختی سمجھاتا ہے، مگر اس میں کوئی اضافی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔ اس لیے اس حدیث کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے کہ وہ دن بہت سخت ہوگا اور انسان اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوگا۔ قیامت میں پسینہ والی حدیث انسان کو غفلت سے نکالتی ہے اور آخرت کے لیے سنجیدہ ہونے کی طرف بلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کے دن پسینے کی شدت حدیث میں صاف بیان ہوئی ہے۔
- اس دن انسان معمولی حالت میں نہیں ہوگا بلکہ سخت پریشانی کا سامنا کرے گا۔
- حدیث قیامت کے حساب اور پیشی کی حقیقت یاد دلاتی ہے۔
- انسان کو دنیا ہی میں اپنے اعمال کی فکر کرنی چاہیے۔
