صحیح بخاری حدیث ۶۵۳۷ - قیامت کے دن حساب کی سختی
قیامت کے دن حساب: آسان حساب اور سخت پوچھ گچھ کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۵۳۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۳۷
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا هَلَكَ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ { 7 } فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا { 8 } سورة الانشقاق آية 7-8 فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا ذَلِكِ الْعَرْضُ ، وَلَيْسَ أَحَدٌ يُنَاقَشُ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا عُذِّبَ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص سے بھی قیامت کے دن حساب لیا گیا پس وہ ہلاک ہوا۔میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے خود نہیں فرمایا ہے «فأما من أوتي كتابه بيمينه * فسوف يحاسب حسابا يسيرا» کہ ”پس جس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو عنقریب اس سے ایک آسان حساب لیا جائے گا۔“ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو صرف پیشی ہو گی۔ (اللہ رب العزت کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ) قیامت کے دن جس کے بھی حساب میں کھود کرید کی گئی اس کو عذاب یقینی ہو گا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۳۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قیامت کے دن حساب ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جس سے قیامت کے دن حساب لیا گیا وہ ہلاک ہوا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے قرآن کی آیت کا حوالہ دے کر پوچھا کہ جس کو دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملے گا اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے جواب دیا کہ وہ صرف پیشی ہے۔ پھر فرمایا کہ جس کے حساب میں کھود کرید کی گئی اسے عذاب ہوگا۔ اس حدیث میں حساب یسیر اور مناقشہ حساب کا فرق صاف بتایا گیا ہے۔ آسان حساب سے مراد تفصیلی پکڑ نہیں بلکہ پیشی ہے، جبکہ سخت پوچھ گچھ خطرناک ہے۔ یہ حساب کی حدیث انسان کو اپنے اعمال کے بارے میں محتاط کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آسان حساب کو حدیث میں پیشی کے طور پر سمجھایا گیا ہے۔
- حساب میں کھود کرید ہونا سخت انجام کا سبب بتایا گیا ہے۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت کے بارے میں سوال کیا اور نبی صلى الله عليه وسلم نے وضاحت فرمائی۔
- قیامت کے حساب کی فکر انسان کو اپنے اعمال سنبھالنے کی یاد دلاتی ہے۔
