صحیح بخاری حدیث ۶۵۳۱ - رب العالمین کے سامنے کھڑے ہونے کی حدیث

رب العالمین کے سامنے کھڑے ہونے کی حدیث: قیامت کے دن پسینہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۳۱

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6 قَالَ : يَقُومُ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ " .

ابن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «يوم يقوم الناس لرب العالمين‏» کی تفسیر میں فرمایا کہ تم میں سے ہر کوئی سارے جہانوں کے پروردگار کے آگے کھڑا ہو گا اس حال میں کہ اس کا پسینہ کانوں کی لو تک پہنچا ہوا ہو گا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۵۳۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے کا حال بیان ہوا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے آیت، جس دن لوگ رب العالمین کے لیے کھڑے ہوں گے، کی تفسیر میں فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک اپنے پسینے میں کھڑا ہوگا، یہاں تک کہ پسینہ کانوں کی لو تک پہنچ جائے گا۔ یہ قیامت کی حدیث مختصر ہے مگر اس میں بہت بڑی بات ہے۔ انسان کو یاد دلایا گیا کہ ایک دن اسے رب العالمین کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ حدیث میں لمبی تفصیل نہیں، صرف اس کھڑے ہونے کی سختی اور پسینے کا حال بیان کیا گیا ہے۔ اس لیے اسے حساب، پیشی اور قیامت کی تیاری کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیامت کے دن ہر شخص کو رب العالمین کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا۔
  • اس دن کی سختی کا ایک نشان پسینے کی شدت بتایا گیا ہے۔
  • حدیث آیت کے معنی کو نبی صلى الله عليه وسلم کے بیان سے واضح کرتی ہے۔
  • آخرت کی پیشی انسان کو اپنے اعمال پر غور کرنے کی یاد دلاتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں