صحیح بخاری حدیث ۶۵۳۰ - جہنم کا حصہ اور امت کے لیے خوشخبری
بعث النار اور امت کے لیے خوشخبری: قیامت کی سخت حدیث
صحیح بخاری : ۶۵۳۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۳۰
حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ اللَّهُ : " يَا آدَمُ " ، فَيَقُولُ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ ، قَالَ : يَقُولُ : " أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ " ، قَالَ : وَمَا بَعْثُ النَّارِ ؟ قَالَ : " مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ " ، فَذَاكَ حِينَ يَشِيبُ الصَّغِيرُ ، وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا ، وَتَرَى النَّاسَ سَكْرَى وَمَا هُمْ بِسَكْرَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ ؟ قَالَ : أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفًا وَمِنْكُمْ رَجُلٌ ، ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، قَالَ : فَحَمِدْنَا اللَّهَ وَكَبَّرْنَا ، ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، إِنَّ مَثَلَكُمْ فِي الْأُمَمِ كَمَثَلِ الشَّعَرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ ، أَوِ الرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ " .
ابو سعید خدری روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے آدم! آدم علیہ السلام کہیں گے حاضر ہوں فرماں بردار ہوں اور ہر بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جو لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے انہیں نکال لو۔ آدم علیہ السلام پوچھیں گے جہنم میں ڈالے جانے والے لوگ کتنے ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہی وہ وقت ہو گا جب بچے غم سے بوڑھے ہو جائیں گے اور حاملہ عورتیں اپنا حمل گرا دیں گی اور تم لوگوں کو نشہ کی حالت میں دیکھو گے، حالانکہ وہ واقعی نشہ کی حالت میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہو گا۔صحابہ کو یہ بات بہت سخت معلوم ہوئی تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر ہم میں سے وہ (خوش نصیب) شخص کون ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں خوشخبری ہو، ایک ہزار یاجوج ماجوج کی قوم سے ہوں گے۔ اور تم میں سے وہ ایک جنتی ہو گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم لوگ اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو گے۔ راوی نے بیان کیا کہ ہم نے اس پر اللہ کی حمد بیان کی اور اس کی تکبیر کہی۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے امید ہے کہ آدھا حصہ اہل جنت کا تم لوگ ہو گے۔ تمہاری مثال دوسری امتوں کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے کسی سیاہ بیل کے جسم پر سفید بالوں کی (معمولی تعداد) ہوتی ہے یا وہ سفید داغ جو گدھے کے آگے کے پاؤں پر ہوتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع قیامت، بعث النار اور امت کے لیے خوشخبری ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو پکارے گا اور جہنم میں ڈالے جانے والوں کو نکالنے کا حکم دے گا۔ پھر ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے کا ذکر آیا۔ حدیث میں اس وقت کی سختی قرآن کے الفاظ کے ساتھ بیان ہوئی کہ بچہ بوڑھا ہو جائے گا، حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور لوگ نشے جیسے دکھائی دیں گے، حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے۔ صحابہ کو یہ بات سخت محسوس ہوئی تو نبی صلى الله عليه وسلم نے خوشخبری دی کہ بڑی تعداد یاجوج ماجوج میں سے ہوگی اور امت میں سے ایک ہوگا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے امت کے اہل جنت کے تہائی اور نصف حصے کی امید ظاہر فرمائی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کے دن کا معاملہ بہت سخت ہوگا جیسا حدیث میں بیان ہوا ہے۔
- صحابہ نے سخت بات سن کر فوراً سوال کیا اور فکر ظاہر کی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے امت کے لیے اہل جنت میں بڑے حصے کی امید دلائی۔
- حدیث میں خوف اور امید دونوں پہلو ایک ساتھ آتے ہیں۔
