صحیح بخاری حدیث ۶۵۲۸ - امت محمدیہ اور اہل جنت کی حدیث
امت محمدیہ کا اہل جنت میں حصہ: جنت کی امید والی حدیث
صحیح بخاری : ۶۵۲۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۲۸
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ فِي قُبَّةٍ فَقَالَ : " أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " ، قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : " أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " ، قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : " أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " ، قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَذَلِكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ ، وَمَا أَنْتُمْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَحْمَرِ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خیمہ میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا ایک چوتھائی رہو؟ ہم نے کہا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا تم ایک تہائی رہو؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا تم نصف رہو؟ ہم نے کہا جی ہاں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم لوگ (امت مسلمہ) اہل جنت کا حصہ ہو گے اور ایسا اس لیے ہو گا کہ جنت میں فرمانبردار نفس کے علاوہ اور کوئی داخل نہ ہو گا اور تم لوگ شرک کرنے والوں کے درمیان (تعداد میں) اس طرح ہو گے جیسے سیاہ بیل کے جسم پر سفید بال ہوتے ہیں یا جیسے سرخ کے جسم پر ایک سیاہ بال ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع امت محمدیہ اور اہل جنت ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم ایک خیمے میں صحابہ کے ساتھ تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا چوتھائی حصہ تم ہو؟ پھر تہائی اور پھر نصف کا ذکر فرمایا۔ صحابہ نے ہر بار خوشی سے ہاں کہا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے قسم کے ساتھ امید ظاہر فرمائی کہ امت مسلمہ اہل جنت کا نصف حصہ ہوگی۔ ساتھ ہی یہ بات بھی صاف بتائی کہ جنت میں صرف فرمانبردار نفس داخل ہوگا۔ حدیث میں امت کی تعداد کو اہل شرک کے مقابلے میں بہت کم مثال سے سمجھایا گیا، جیسے سیاہ بیل پر سفید بال۔ یہ جنت کی حدیث امید بھی دیتی ہے اور اطاعت کی شرط بھی یاد دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے امت کے لیے اہل جنت میں بڑے حصے کی امید ظاہر فرمائی۔
- جنت میں داخلہ فرمانبرداری کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
- تعداد کی کمی کے باوجود اللہ کے فضل کی امید رکھی گئی ہے۔
- صحابہ نبی صلى الله عليه وسلم کی بشارت پر خوش ہوئے اور اسے قبول کیا۔
