صحیح بخاری حدیث ۶۵۴۲ - روشن چہروں والے ستر ہزار
روشن چہروں والے ستر ہزار: امت کے لیے جنت کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۵۴۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۴۲
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، حَدَّثَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي زُمْرَةٌ هُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا تُضِيءُ وُجُوهُهُمْ إِضَاءَةَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ " ، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيُّ ، يَرْفَعُ نَمِرَةً عَلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ " ، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " .
ابوہریرہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کی ایک جماعت جنت میں داخل ہو گی جس کی تعداد ستر ہزار ہو گی۔ ان کے چہرے اس طرح روشن ہوں گے جیسے چودہویں رات کا چاند روشن ہوتا ہے۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اپنی دھاری دار کملی جو ان کے جسم پر تھی، اٹھاتے ہوئے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! انہیں بھی ان میں سے کر دے۔ اس کے بعد ایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! دعا کیجئے کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۴۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع امت کے ستر ہزار افراد کا جنت میں داخلہ ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو فرماتے سنا کہ میری امت کی ایک جماعت جنت میں داخل ہوگی، ان کی تعداد ستر ہزار ہوگی، اور ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور درخواست کی کہ نبی صلى الله عليه وسلم اللہ سے دعا کریں کہ انہیں بھی ان میں شامل فرما دے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ پھر ایک اور صحابی نے بھی یہی درخواست کی تو فرمایا کہ عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔ یہ جنت کی حدیث امید، دعا اور نیکی کی طرف رغبت پیدا کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امت کی ایک جماعت ستر ہزار افراد پر مشتمل ہوگی جو جنت میں داخل ہوگی۔
- ان کے چہروں کی روشنی چودھویں رات کے چاند سے بیان کی گئی ہے۔
- عکاشہ رضی اللہ عنہ نے خیر میں شامل ہونے کی دعا کی درخواست کی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے عکاشہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعا فرمائی۔
