صحیح بخاری حدیث ۴۶۹۸ - مسلمان کی مثال کھجور کے درخت جیسی
مسلمان کی مثال کھجور کے درخت جیسی ہے
صحیح بخاری : ۴۶۹۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۹۸
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَخْبِرُونِي بِشَجَرَةٍ تُشْبِهُ ، أَوْ كَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ ، لَا يَتَحَاتُّ وَرَقُهَا ، وَلَا ، وَلَا ، وَلَا تُؤْتِي أُكْلَهَا كُلَّ حِينٍ " ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَا يَتَكَلَّمَانِ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ ، فَلَمَّا لَمْ يَقُولُوا شَيْئًا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ النَّخْلَةُ " ، فَلَمَّا قُمْنَا قُلْتُ لِعُمَرَ : يَا أَبَتَاهُ ، وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ وَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ ، فَقَالَ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تَكَلَّمَ ، قَالَ : لَمْ أَرَكُمْ تَكَلَّمُونَ فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ ، أَوْ أَقُولَ شَيْئًا ، قَالَ عُمَرُ : لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا ، وَكَذَا .
ابن عمر روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: اچھا مجھ کو بتلاؤ تو وہ کون سا درخت ہے جو مسلمان کی مانند ہے جس کے پتے نہیں گرتے، ہر وقت میوہ دے جاتا ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میرے دل میں آیا وہ کھجور کا درخت ہے مگر میں نے دیکھا کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے ہیں انہوں نے جواب نہیں دیا تو مجھ کو ان بزرگوں کے سامنے کلام کرنا اچھا معلوم نہیں ہوا۔ جب ان لوگوں نے کچھ جواب نہیں دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے۔جب ہم اس مجلس سے کھڑے ہوئے تو میں نے اپنے والد عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: بابا جان! اللہ کی قسم! میرے دل میں آیا تھا کہ میں کہہ دوں وہ کھجور کا درخت ہے۔ انہوں نے کہا پھر تو نے کہہ کیوں نہ دیا۔ میں نے کہا آپ لوگوں نے کوئی بات نہیں کی میں نے آگے بڑھ کر بات کرنا مناسب نہ جانا۔ انہوں نے کہا واہ اگر تو اس وقت کہہ دیتا تو مجھ کو اتنے اتنے (لال لال اونٹ کا) مال ملنے سے بھی زیادہ خوشی ہوتی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے سوال کیا کہ وہ کون سا درخت ہے جو مسلمان کی طرح ہے، جس کے پتے نہیں گرتے اور جو ہر وقت پھل دیتا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے، مگر انہوں نے دیکھا کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما خاموش ہیں، اس لیے انہوں نے بات کرنا مناسب نہ سمجھا۔ جب کسی نے جواب نہ دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ بعد میں عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم جواب دے دیتے تو مجھے بہت خوشی ہوتی۔ یہ حدیث مسلمان کی مثال حدیث کے طور پر بہت مشہور ہے۔ اس میں علم کی مجلس، ادب، بڑوں کا احترام اور درست جواب دینے کی ترغیب سب نظر آتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کو ایسا ہونا چاہیے کہ اس سے فائدہ پہنچے۔
- علم کی مجلس میں سوال و جواب تعلیم کا اچھا طریقہ ہے۔
- بڑوں کا ادب اچھی بات ہے، مگر درست علم کہنا بھی قابل قدر ہے۔
- کھجور کے درخت کی مثال سے مسلمان کی مستقل بھلائی سمجھائی گئی۔
