صحیح بخاری حدیث ۴۷۳۲ - ایمان پر ثابت قدمی اور حق کی ادائیگی

ایمان پر ثابت قدمی: خباب رضی اللہ عنہ کی حدیث کا آسان مطلب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۳۲

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَبَّابًا ، قَالَ : " جِئْتُ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ السَّهْمِيَّ أَتَقَاضَاهُ حَقًّا لِي عِنْدَهُ ، فَقَالَ : لَا أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : لَا ، حَتَّى تَمُوتَ ، ثُمَّ تُبْعَثَ ، قَالَ : وَإِنِّي لَمَيِّتٌ ، ثُمَّ مَبْعُوثٌ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : إِنَّ لِي هُنَاكَ مَالًا وَوَلَدًا ، فَأَقْضِيكَهُ ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا سورة مريم آية 77 " .رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ ، وَشُعْبَةُ ، وَحَفْصٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ .

´ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوالضحیٰ (مسلم بن صبیح) نے، ان سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا کہ میں نے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ` میں عاص بن وائل سہمی کے پاس اپنا حق مانگنے گیا تو وہ کہنے لگا کہ جب تک تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کفر نہیں کرو گے میں تمہیں مزدوری نہیں دوں گا۔ میں نے اس پر کہا کہ یہ کبھی نہیں کر سکتا۔ یہاں تک کہ تم مرنے کے بعد پھر زندہ کئے جاؤ۔ اس پر وہ بولا، کیا مرنے کے بعد پھر مجھے زندہ کیا جائے گا؟ میں نے کہا ہاں، ضرور، کہنے لگا کہ پھر وہاں بھی میرے پاس مال اولاد ہو گی اور میں وہیں تمہاری مزدوری بھی دے دوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا‏» کہ ”بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جو ہماری نشانیوں سے کفر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے مال اور اولاد مل کر رہیں گے۔“ اس حدیث کو سفیان ثوری اور شعبہ اور حفص اور ابومعاویہ اور وکیع نے بھی اعمش سے روایت کیا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۷۳۲ کا خلاصہ

یہ حدیث ایمان پر ثابت قدمی، حق کی ادائیگی اور آخرت پر یقین کے بارے میں ہے۔ خباب بن ارت رضی اللہ عنہ اپنا حق یعنی مزدوری لینے عاص بن وائل کے پاس گئے۔ اس نے مزدوری دینے کے لیے یہ شرط لگائی کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کریں۔ خباب رضی اللہ عنہ نے صاف جواب دیا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ ایک مومن اپنے مالی حق کے لیے بھی ایمان کا سودا نہیں کرتا۔ حدیث میں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا ذکر بھی ہے۔ عاص بن وائل نے اس بات کا مذاق اڑانے کے انداز میں جواب دیا، تو اسی موقع پر سورہ مریم کی آیت نازل ہوئی۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان، بعث بعد الموت، مزدور کا حق، اور باطل شرط کو رد کرنا اہم باتیں ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایمان کو دنیاوی فائدے یا مالی حق کے بدلے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
  • کسی کا حق، خاص طور پر مزدوری، روکنا غلط رویہ ہے۔
  • مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر یقین ایمان کا اہم حصہ ہے۔
  • باطل شرط کے سامنے صاف اور مضبوط جواب دینا مومن کی شان ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں