صحیح بخاری حدیث ۴۷۳۶ - تقدیر اور آدم و موسیٰ علیہما السلام کا مکالمہ

تقدیر کی حدیث: آدم و موسیٰ علیہما السلام کا مکالمہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۳۶

حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْتَقَى آدَمُ وَمُوسَى ، فَقَالَ مُوسَى لِآدَمَ : آنْتَ الَّذِي أَشْقَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ ، قَالَ آدَمُ : أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَاصْطَفَاكَ لِنَفْسِهِ ، وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ التَّوْرَاةَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَوَجَدْتَهَا كُتِبَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي ، قَالَ : نَعَمْ ، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (عالم مثال میں) آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا کہ آپ ہی نے لوگوں کو پریشانی میں ڈالا اور انہیں جنت سے نکالا۔ آدم علیہ السلام نے جواب دیا کہ آپ وہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے پسند کیا اور خود اپنے لیے پسند کیا اور آپ پر توریت نازل کی۔موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ جی ہاں۔ اس پر آدم علیہ السلام نے فرمایا کہ پھر آپ نے تو دیکھا ہی ہو گا کہ میری پیدائش سے پہلے ہی یہ سب کچھ میرے لیے لکھ دیا گیا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ جی ہاں معلوم ہے۔ چنانچہ آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔ «اليم» کے معنی دریا کے ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۴۷۳۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع تقدیر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات ہوئی۔ موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا کہ آپ کی وجہ سے لوگ پریشانی میں پڑے اور جنت سے نکلے۔ آدم علیہ السلام نے جواب میں موسیٰ علیہ السلام کی فضیلت یاد دلائی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رسالت کے لیے چنا، اپنے لیے پسند کیا، اور ان پر توریت نازل فرمائی۔ پھر آدم علیہ السلام نے پوچھا کہ کیا آپ نے توریت میں یہ نہیں پایا کہ یہ معاملہ میری پیدائش سے پہلے لکھ دیا گیا تھا؟ موسیٰ علیہ السلام نے اس بات کو مانا۔ اسی وجہ سے آدم علیہ السلام کی دلیل غالب آئی۔ یہ حدیث تقدیر پر ایمان، اللہ کے پہلے سے لکھے ہوئے فیصلے، اور انبیاء علیہم السلام کے باہمی مکالمے کو سادہ انداز میں بیان کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تقدیر پر ایمان رکھنا اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے۔
  • آدم علیہ السلام نے اپنی دلیل اسی بات پر قائم کی کہ یہ معاملہ ان کی پیدائش سے پہلے لکھا جا چکا تھا۔
  • موسیٰ علیہ السلام کی فضیلت حدیث میں واضح طور پر بیان ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں رسالت کے لیے چنا اور توریت عطا فرمائی۔
  • دلیل اور بات چیت میں اصل بات کو واضح کرنا اہم ہے، جیسا کہ آدم علیہ السلام نے کیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں