صحیح بخاری حدیث ۴۷۳۵ - ایمان پر ثابت قدمی اور آخرت کا یقین
ایمان پر ثابت قدمی: خباب رضی اللہ عنہ کی حدیث کا آسان مفہوم
صحیح بخاری : ۴۷۳۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۳۵
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ : " كُنْتُ رَجُلًا قَيْنًا ، وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ ، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ ، فَقَالَ لِي : لَا أَقْضِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ ، قَالَ : قُلْتُ : لَنْ أَكْفُرَ بِهِ حَتَّى تَمُوتَ ، ثُمَّ تُبْعَثَ ، قَالَ : وَإِنِّي لَمَبْعُوثٌ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ ، فَسَوْفَ أَقْضِيكَ إِذَا رَجَعْتُ إِلَى مَالٍ وَوَلَدٍ ، قَالَ : فَنَزَلَتْ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا { 77 } أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا { 78 } كَلَّا سَنَكْتُبُ مَا يَقُولُ وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا { 79 } وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا { 80 } سورة مريم آية 77-80 " .
خباب بن ارت روایت:
میں پہلے لوہار تھا اور عاص بن وائل پر میرا قرض چاہئے تھا۔ میں اس کے پاس تقاضا کرنے گیا تو کہنے لگا کہ جب تک تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پھر جاؤ گے تمہارا قرض نہیں دوں گا، میں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے ہرگز نہیں پھروں گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تجھے مار دے اور پھر زندہ کر دے۔ اس نے کہا کیا موت کے بعد میں دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا پھر تو مجھے مال و اولاد بھی مل جائیں گے اور اسی وقت تمہارا قرض بھی ادا کر دوں گا۔راوی نے بیان کیا کہ اس کے متعلق آیت نازل ہوئی «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا * أطلع الغيب أم اتخذ عند الرحمن عهدا * كلا سنكتب ما يقول ونمد له من العذاب مدا * ونرثه ما يقول ويأتينا فردا» کہ ”بھلا تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جو ہماری آیتوں کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے تو مال اور اولاد مل کر رہیں گے، تو کیا یہ غیب پر آگاہ ہو گیا ہے۔ یا اس نے خدائے رحمن سے کوئی عہد کر لیا ہے؟ ہرگز نہیں، البتہ ہم اس کا کہا ہوا بھی لکھ لیتے ہیں اور اس کے لیے عذاب بڑھاتے ہی چلے جائیں گے اور اس کی کہی ہوئی کے ہم ہی مالک ہوں گے اور وہ ہمارے پاس اکیلا آئے گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۷۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل پیغام ایمان پر ثابت قدمی ہے۔ حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ لوہار تھے اور عاص بن وائل پر ان کا قرض تھا۔ جب وہ اپنا حق مانگنے گئے تو عاص نے قرض ادا کرنے کے لیے ایک غلط شرط لگائی کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کریں۔ حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے صاف کہہ دیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے ہرگز نہیں پھریں گے۔ یہاں اس حدیث میں دین پر ثابت قدم رہنے، قرض کی ادائیگی، قیامت پر ایمان، دوبارہ زندہ ہونا اور اللہ کے سامنے اکیلا حاضر ہونا جیسے اہم مضامین آتے ہیں۔ عاص بن وائل نے موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا مذاق بنایا اور مال و اولاد ملنے کا دعویٰ کیا، تو قرآن کی آیات نازل ہوئیں کہ کیا اسے غیب کا علم ہے یا رحمن سے کوئی عہد ملا ہے؟ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ بندے کی باتیں لکھی جاتی ہیں اور آخرت میں انسان اللہ کے پاس اکیلا آئے گا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کے معاملے میں مال یا قرض کے دباؤ سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
- اپنا حق مانگنا جائز ہے، مگر ایمان کا سودا کسی قیمت پر نہیں کیا جا سکتا۔
- موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونا حق ہے، اس کا مذاق اڑانا بہت سنگین بات ہے۔
- انسان کی کہی ہوئی باتیں اللہ کے ہاں لکھی جاتی ہیں، اس لیے زبان کی حفاظت ضروری ہے۔
