صحیح بخاری حدیث ۴۷۳۴ - ایمان پر ثابت قدمی کا سبق
ایمان پر ثابت قدمی: خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۷۳۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۳۴
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى يُحَدِّثُ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ : " كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَكَانَ لِي دَيْنٌ عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ ، قَالَ : فَأَتَاهُ يَتَقَاضَاهُ ، فَقَالَ : لَا أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَكْفُرُ حَتَّى يُمِيتَكَ اللَّهُ ، ثُمَّ يَبْعَثَكَ ، قَالَ : فَذَرْنِي حَتَّى أَمُوتَ ، ثُمَّ أُبْعَثَ ، فَسَوْفَ أُوتَى مَالًا وَوَلَدًا ، فَأَقْضِيكَ ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا سورة مريم آية 77 " .
´ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان اعمش نے، انہوں نے ابوالضحیٰ سے سنا، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں زمانہ جاہلیت میں لوہاری کا کام کرتا تھا اور عاص بن وائل پر میرا کچھ قرض تھا۔ بیان کیا کہ میں اس کے پاس اپنا قرض مانگنے گیا تو وہ کہنے لگا کہ جب تک تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کرتے، تمہاری مزدوری نہیں مل سکتی۔ میں نے اس پر جواب دیا کہ اللہ کی قسم! میں ہرگز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کر سکتا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تجھے مار دے اور پھر تجھے دوبارہ زندہ کر دے۔ عاص کہنے لگا کہ پھر مرنے تک مجھ سے قرض نہ مانگو۔ مرنے کے بعد جب میں زندہ رہوں گا تو مجھے مال و اولاد بھی ملیں گے اور اس وقت تمہارا قرض ادا کر دوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا» لخ۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع ایمان پر ثابت قدمی ہے۔ خباب بن ارت رضی اللہ عنہ اپنا قرض لینے عاص بن وائل کے پاس گئے۔ عاص نے قرض واپس کرنے کے بجائے یہ شرط رکھی کہ جب تک تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کرو گے، تمہیں تمہاری مزدوری نہیں ملے گی۔ خباب رضی اللہ عنہ نے صاف جواب دیا کہ اللہ کی قسم، میں ہرگز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کر سکتا۔ اس جواب میں ایک سادہ مگر مضبوط سبق ہے: مسلمان اپنے حق کا مطالبہ بھی کرتا ہے، مگر ایمان کا سودا نہیں کرتا۔ اس واقعے میں قرض کی ادائیگی، حق مانگنا، قیامت پر ایمان، اور دوبارہ زندہ کیے جانے کا ذکر بھی آتا ہے۔ عاص بن وائل نے قیامت اور مال و اولاد کی بات کو مذاق کے انداز میں لیا، اسی پر سورۃ مریم کی آیت نازل ہوئی: کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا کہ مجھے مال اور اولاد ضرور دی جائے گی؟
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان کو دنیاوی فائدے یا مالی دباؤ کے بدلے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
- اپنا حق اور قرض مانگنا جائز ہے، مگر دین کے معاملے میں کمزوری نہیں دکھانی چاہیے۔
- قیامت اور دوبارہ زندہ کیے جانے کا عقیدہ اس حدیث کے متن میں واضح طور پر موجود ہے۔
- کسی کے مال یا اولاد کے دعوے کو اللہ کے حکم کے مقابلے میں یقین کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
