صحیح بخاری حدیث ۲۲۷۵ - مزدوری روکنے پر ایمان سے نہ پھرنا

خباب بن ارتؓ کی حدیث: مزدوری کے لیے ایمان نہیں چھوڑا جاتا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۷۵

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، حَدَّثَنَا خَبَّابٌ ، قَالَ : " كُنْتُ رَجُلًا قَيْنًا ، فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ ، فَاجْتَمَعَ لِي عِنْدَهُ ، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ ، فَقَالَ : لَا ، وَاللَّهِ لَا أَقْضِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ ، فَقُلْتُ : أَمَا وَاللَّهِ حَتَّى تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ فَلَا ، قَالَ : وَإِنِّي لَمَيِّتٌ ثُمَّ مَبْعُوثٌ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّهُ سَيَكُونُ لِي ، ثَمَّ مَالٌ وَوَلَدٌ فَأَقْضِيكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا سورة مريم آية 77 " .

خباب بن ارت روایت:

میں لوہار تھا، میں نے عاص بن وائل (مشرک) کا کام کیا۔ جب میری بہت سی مزدوری اس کے سر چڑھ گئی تو میں اس کے پاس تقاضا کرنے آیا، وہ کہنے لگا کہ اللہ کی قسم! میں تمہاری مزدوری اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پھر جاؤ۔میں نے کہا، اللہ کی قسم! یہ تو اس وقت بھی نہ ہو گا جب تو مر کے دوبارہ زندہ ہو گا۔ اس نے کہا، کیا میں مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا؟ میں نے کہا کہ ہاں! اس پر وہ بولا پھر کیا ہے۔ وہیں میرے پاس مال اور اولاد ہو گی اور وہیں میں تمہارا قرض ادا کر دوں گا۔ اس پر قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا‏» ”اے پیغمبر! کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا، اور کہا کہ مجھے ضرور وہاں مال و اولاد دی جائے گی۔“

صحیح بخاری حدیث ۲۲۷۵ کا خلاصہ

حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ لوہار تھے۔ انہوں نے عاص بن وائل کا کام کیا، پھر جب بہت سی مزدوری اس کے ذمہ ہو گئی تو وہ تقاضا کرنے گئے۔ اس نے کہا کہ میں تمہاری مزدوری اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر نہ جاؤ۔ حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے صاف جواب دیا کہ اللہ کی قسم، ایسا نہیں ہو گا، چاہے تو مر کر دوبارہ زندہ ہو جائے۔ اس پر عاص نے قیامت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ وہاں میرے پاس مال اور اولاد ہو گی، تب قرض دے دوں گا۔ اس واقعے پر قرآن کی آیت نازل ہوئی۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ مزدوری کا حق بھی حق ہے، مگر ایمان کسی قیمت پر نہیں چھوڑا جاتا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایمان کو مال یا مزدوری کے بدلے نہیں چھوڑا جا سکتا۔
  • کسی کا حق روک کر دینی دباؤ ڈالنا ظلم ہے۔
  • مسلمان کو حق کے مطالبے میں بھی ایمان پر ثابت رہنا چاہیے۔
  • آخرت کا مذاق اڑانا کفر کے رویے میں شامل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں