صحیح بخاری حدیث ۲۲۷۴ - تجارتی قافلوں اور دلالی کا حکم

تلقی رکبان کی حدیث: منصفانہ تجارت اور دلالی کا ادب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۷۴

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ ، وَلَا يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ " ، قُلْتُ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، مَا قَوْلُهُ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، قَالَ : لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا .

ابن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (تجارتی) قافلوں سے (منڈی سے آگے جا کر) ملاقات کرنے سے منع فرمایا تھا۔ اور یہ کہ شہری دیہاتی کا مال نہ بیچیں، میں نے پوچھا، اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! ”شہری دیہاتی کا مال نہ بیچیں“ کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مراد یہ ہے کہ ان کے دلال نہ بنیں۔

صحیح بخاری حدیث ۲۲۷۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو باتوں سے منع فرمایا۔ پہلی یہ کہ تجارتی قافلوں سے منڈی سے پہلے جا کر ملاقات نہ کی جائے۔ دوسری یہ کہ شہری دیہاتی کا مال نہ بیچے۔ جب ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ شہری دیہاتی کا مال نہ بیچے کا کیا مطلب ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ وہ اس کا دلال نہ بنے۔ اس حدیث کا تعلق تجارت، بازار اور خرید و فروخت کے انصاف سے ہے۔ بازار میں اصل قیمت، صحیح معلومات اور کھلی لین دین کی اہمیت ہوتی ہے۔ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ کاروبار میں ایسا طریقہ نہ اختیار کیا جائے جس سے عام لوگوں یا مال لانے والوں کے ساتھ ناانصافی کا اندیشہ ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تجارت میں شفاف طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔
  • قافلوں کو منڈی سے پہلے روک کر معاملہ کرنا منع کیا گیا۔
  • شہری کا دیہاتی کے لیے دلال بننا اس روایت میں منع ہے۔
  • بازار کے معاملات میں دوسروں کے حق کا خیال رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں