صحیح بخاری حدیث ۴۷۴۲ - ایمان میں ثابت قدمی اور دین کا صحیح معیار
ایمان کی ثابت قدمی: ومن الناس من یعبد اللہ علی حرف کی تفسیر
صحیح بخاری : ۴۷۴۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۴۲
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى حَرْفٍ سورة الحج آية 11 ، قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ يَقْدَمُ الْمَدِينَةَ ، فَإِنْ وَلَدَتِ امْرَأَتُهُ غُلَامًا وَنُتِجَتْ خَيْلُهُ ، قَالَ : "هَذَا دِينٌ صَالِحٌ ، وَإِنْ لَمْ تَلِدِ امْرَأَتُهُ ، وَلَمْ تُنْتَجْ خَيْلُهُ ، قَالَ : هَذَا دِينُ سُوءٍ " .
ابن عباس روایت:
´مجھ سے ابراہیم بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی بکیر نے، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابوحصین نے ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے` آیت «ومن الناس من يعبد الله على حرف» ”اور انسانوں میں کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو اللہ کی عبادت کنارہ پر (کھڑا ہو کر) کرتا ہے۔“ کے متعلق فرمایا کہ بعض لوگ مدینہ آتے (اور اپنے اسلام کا اظہار کرتے) اس کے بعد اگر اس کی بیوی کے یہاں لڑکا پیدا ہوتا اور گھوڑی بھی بچہ دیتی تو وہ کہتے کہ یہ دین (اسلام) بڑا اچھا دین ہے، لیکن اگر ان کے یہاں لڑکا نہ پیدا ہوتا اور گھوڑی بھی کوئی بچہ نہ دیتی تو کہتے کہ یہ تو برا دین ہے اس پر مذکور بالا آیت نازل ہوئی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۴۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سورۃ الحج کی آیت ”ومن الناس من یعبد اللہ علی حرف“ کا مطلب سمجھایا ہے۔ روایت کے مطابق کچھ لوگ مدینہ آتے اور اسلام کا اظہار کرتے تھے۔ پھر اگر ان کی بیوی کے ہاں لڑکا پیدا ہوتا اور گھوڑی بھی بچہ دیتی تو وہ کہتے کہ یہ دین اچھا ہے۔ لیکن اگر یہ دنیاوی فائدہ نہ ملتا تو وہ کہتے کہ یہ برا دین ہے۔ اس سے اصل بات یہ سامنے آتی ہے کہ دین کو صرف فائدے، اولاد یا مال کے بدلنے سے نہیں ناپنا چاہیے۔ ایمان کی آزمائش یہی ہے کہ آدمی حالات کے بدلنے پر اپنے دین کے بارے میں جلدی فیصلہ نہ کرے۔ یہ حدیث دین پر ثابت قدمی، اسلام کا اظہار، اور دنیاوی فائدے سے دین کو تولنے کے غلط انداز کو بہت صاف طریقے سے بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کو صرف دنیاوی فائدے یا نقصان کی بنیاد پر اچھا یا برا نہیں کہنا چاہیے۔
- اسلام کا اظہار سنجیدگی چاہتا ہے، صرف اچھے حالات میں نہیں۔
- اولاد یا مال کا ملنا دین کے حق یا باطل ہونے کا معیار نہیں بن سکتا۔
- حالات بدلنے پر ایمان میں کمزوری دکھانا قرآن کی اس آیت کے مفہوم میں آتا ہے۔
