صحیح بخاری حدیث ۴۷۴۱ - قیامت کی سختی اور اہل جنت کی بشارت

قیامت کی حدیث: دوزخ کا جتھا، یاجوج ماجوج اور امت محمدیہ کی بشارت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۴۱

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : " يَا آدَمُ ، يَقُولُ : لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ ، فَيُنَادَى بِصَوْتٍ ، إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُخْرِجَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ بَعْثًا إِلَى النَّارِ ، قَالَ : يَا رَبِّ ، وَمَا بَعْثُ النَّارِ ؟ قَالَ : مِنْ كُلِّ أَلْفٍ أُرَاهُ ، قَالَ : تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ ، فَحِينَئِذٍ تَضَعُ الْحَامِلُ حَمْلَهَا ، وَيَشِيبُ الْوَلِيدُ ، وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ سورة الحج آية 2 ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ حَتَّى تَغَيَّرَتْ وُجُوهُهُمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ ، وَمِنْكُمْ وَاحِدٌ ، ثُمَّ أَنْتُمْ فِي النَّاسِ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جَنْبِ الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جَنْبِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَكَبَّرْنَا ، ثُمَّ قَالَ : ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَكَبَّرْنَا ، ثُمَّ قَالَ : شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَكَبَّرْنَا " . قَالَ أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ : وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى سورة الحج آية 2 ، وَقَالَ : مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ ، وَقَالَ جَرِيرٌ ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ ،وَأَبُو مُعَاوِيَةَ 0 سَكْرَى وَمَا هُمْ بِسَكْرَى 0 .

ابو سعید خدری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پاک قیامت کے دن آدم علیہ السلام سے فرمائے گا۔ اے آدم! وہ عرض کریں گے، میں حاضر ہوں اے رب! تیری فرمانبرداری کے لیے۔ پروردگار آواز سے پکارے گا (یا فرشتہ پروردگار کی طرف سے آواز دے گا) اللہ حکم دیتا ہے کہ اپنی اولاد میں سے دوزخ کا جتھا نکالو۔ وہ عرض کریں گے اے پروردگار! دوزخ کا جتھا کتنا نکالوں۔حکم ہو گا (راوی نے کہا میں سمجھتا ہوں) ہر ہزار آدمیوں میں نو سو ننانوے (گویا ہزار میں ایک جنتی ہو گا) یہ ایسا سخت وقت ہو گا کہ پیٹ والی کا حمل گر جائے گا اور بچہ (فکر کے مارے) بوڑھا ہو جائے گا (یعنی جو بچپن میں مرا ہو) اور تو قیامت کے دن لوگوں کو ایسا دیکھے گا جیسے وہ نشہ میں متوالے ہو رہے ہیں حالانکہ ان کو نشہ نہ ہو گا بلکہ اللہ کا عذاب ایسا سخت ہو گا (یہ حدیث جو صحابہ حاضر تھے ان پر سخت گزری۔ ان کے چہرے (مارے ڈر کے) بدل گئے۔اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تسلی کے لیے فرمایا (تم اتنا کیوں ڈرتے ہو) اگر یاجوج ماجوج (جو کافر ہیں) کی نسل تم سے ملائی جائے تو ان میں سے نو سو ننانوے کے مقابل تم میں سے ایک آدمی پڑے گا۔ غرض تم لوگ حشر کے دن دوسرے لوگوں کی نسبت (جو دوزخی ہوں گے) ایسے ہو گے جیسے سفید بیل کے جسم پر ایک بال کالا ہوتا ہے یا جیسے کالے بیل کے جسم پر ایک دو بال سفید ہوتے ہیں اور مجھ کو امید ہے تم لوگ سارے جنتیوں کا چوتھائی حصہ ہو گے (باقی تین حصوں میں اور سب امتیں ہوں گی)۔ یہ سن کر ہم نے اللہ اکبر کہا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ تم تہائی ہو گے ہم نے پھر نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا نہیں بلکہ آدھا حصہ ہو گے (آدھے حصہ میں اور امتیں ہوں گی) ہم نے پھر نعرہ تکبیر بلند کیا اور ابواسامہ نے اعمش سے یوں روایت کیا «ترى الناس سكارى وما هم بسكارى‏» جیسے مشہور قرآت ہے اور کہا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے نکالو (تو ان کی روایت حفص بن غیاث کے موافق ہے) اور جریر بن عبدالحمید اور عیسیٰ بن یونس اور ابومعاویہ نے یوں نقل کیا «سكرى وما هم بسكرى» (حمزہ اور کسائی کی بھی یہی قرآت ہے)۔

صحیح بخاری حدیث ۴۷۴۱ کا خلاصہ

یہ قیامت کی حدیث بہت سنجیدہ پیغام دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو پکارے گا اور حکم دے گا کہ اپنی اولاد میں سے دوزخ کا جتھا نکالو۔ جب آدم علیہ السلام پوچھیں گے کہ کتنا جتھا نکالوں، تو جواب ہو گا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ اس وقت کی سختی ایسی ہو گی کہ لوگ نشہ میں دکھائی دیں گے، حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہو گا۔ یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر بہت گراں گزری اور ان کے چہرے بدل گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تسلی دی کہ یاجوج ماجوج کی کثرت کے مقابلے میں تمہارا حصہ الگ ہو گا، اور امت محمدیہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امید ظاہر فرمائی کہ وہ اہل جنت کا پہلے چوتھائی، پھر تہائی، پھر آدھا حصہ ہو گی۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ حشر کا دن بہت سخت ہے، مگر اہل ایمان کے لیے اللہ کی رحمت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت بھی موجود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیامت کا دن بہت سخت ہو گا، اس لیے انسان کو آخرت کی فکر رکھنی چاہیے۔
  • دوزخ کا ذکر سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ڈر گئے؛ یہ ایمان کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خوف کے ساتھ امید بھی دلائی۔
  • حدیث میں امت محمدیہ کے لیے اہل جنت میں بڑی نسبت کی امید بیان ہوئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں