صحیح بخاری حدیث ۴۷۴۰ - قیامت کے دن حشر کی حقیقت

قیامت کے دن حشر کی حدیث: ننگے پاؤں اللہ کے سامنے پیشی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۴۰

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ شَيْخٌ مِنْ النَّخَعِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا : كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ سورة الأنبياء آية 104 ، ثُمَّ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ أَلَا إِنَّهُ يُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَصْحَابِي ، فَيُقَالُ : لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ، فَأَقُولُ : كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ ، وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ إِلَى قَوْلِهِ شَهِيدٌ سورة المائدة آية 117 ، فَيُقَالُ إِنَّ هَؤُلَاءِ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ سنایا۔ فرمایا تم قیامت کے دن اللہ کے سامنے ننگے پاؤں ننگے بدن بےختنہ حشر کئے جاؤ گے جیسا کہ ارشاد باری ہے «كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا إنا كنا فاعلين» پھر سب سے پہلے قیامت کے دن ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔سن لو! میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے فرشتے ان کو پکڑ کر بائیں طرف والے دوزخیوں میں لے جائیں گے۔ میں عرض کروں گا پروردگار! یہ تو میرے ساتھ والے ہیں۔ ارشاد ہو گا تم نہیں جانتے انہوں نے تمہاری وفات کے بعد کیا کیا کرتوت کئے ہیں۔ اس وقت میں وہی کہوں گا جو اللہ کے نیک بندے عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں جب تک ان لوگوں میں رہا ان کا حال دیکھتا رہا آخر آیت تک۔ ارشاد ہو گا یہ لوگ اپنی ایڑیوں کے بل اسلام سے پھر گئے جب تو ان سے جدا ہوا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۷۴۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں قیامت کے دن حشر کا بیان ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں بتایا کہ لوگ اللہ کے سامنے ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بے ختنہ حالت میں جمع کیے جائیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی آیت پڑھی کہ اللہ جس طرح پہلی بار پیدا کرتا ہے، اسی طرح دوبارہ پیدا کرے گا۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔ اس کے بعد ایک سخت بات بتائی گئی کہ امت کے کچھ لوگ بائیں طرف لے جائے جائیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں گے کہ یہ میرے ساتھی ہیں، مگر جواب ملے گا کہ آپ نہیں جانتے انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ قیامت کی پیشی حق ہے، اللہ سب کو دوبارہ اٹھائے گا، اور انسان کو دین پر ثابت قدم رہنے کی فکر کرنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیامت کے دن سب لوگ اللہ کے سامنے جمع کیے جائیں گے۔
  • اللہ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے، جیسے اس نے پہلی بار پیدا کیا۔
  • حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قیامت کے دن سب سے پہلے کپڑے پہنائے جائیں گے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دین سے پھرنا سخت خطرے کی بات ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں