صحیح بخاری حدیث ۴۷۶۵ - شرک، قتل اور فحاشی کے بعد توبہ کا ذکر

توبہ کی آیت: شرک، قتل اور فحاشی کے بعد رجوع کا راستہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۶۵

حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ أَبْزَى ، سَلْ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى : "وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا سورة النساء آية 93 ، وَقَوْلِهِ : وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68 حَتَّى بَلَغَ إِلا مَنْ تَابَ سورة الفرقان آية 68 - 69 ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ، قَالَ أَهْلُ مَكَّةَ : فَقَدْ عَدَلْنَا بِاللَّهِ ، وَقَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ، وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : إِلا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلا صَالِحًا إِلَى قَوْلِهِ غَفُورًا رَحِيمًا سورة الفرقان آية 70 " .

سعید بن جبیر روایت:

´ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ` ان سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم‏» ”اور جو کوئی کسی مومن کو جان کر قتل کرے اس کی سزا جہنم ہے۔“ اور سورۃ الفرقان کی آیت «‏‏‏‏لا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق‏» ”اور جس انسان کی جان مارنے کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہیں کرتے مگر ہاں حق کے ساتھ“ «إلا من تاب‏» تک، میں نے اس آیت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اہل مکہ نے کہا کہ پھر تو ہم نے اللہ کے ساتھ شریک بھی ٹھہرایا ہے اور ناحق ایسے قتل بھی کئے ہیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا تھا اور ہم نے بدکاریوں کا بھی ارتکاب کیا ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «إلا من تاب وآمن وعمل عملا صالحا‏» کہ ”مگر ہاں جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام کرتا رہے، اللہ بہت بخشنے والا بڑا ہی مہربان ہے“ تک۔

صحیح بخاری حدیث ۴۷۶۵ کا خلاصہ

اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دو آیات کے بارے میں سوال کیا گیا۔ ایک سورہ نساء کی آیت ہے جس میں جان بوجھ کر مومن کو قتل کرنے کی سخت سزا کا ذکر ہے، اور دوسری سورہ فرقان کی آیات ہیں جن میں شرک، ناحق قتل اور زنا سے بچنے کا بیان ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو اہل مکہ نے کہا کہ ہم نے اللہ کے ساتھ شریک بھی ٹھہرایا، ناحق قتل بھی کیے اور بدکاری بھی کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ جو توبہ کرے، ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اس کے لیے اللہ بہت بخشنے والا، بہت رحم کرنے والا ہے۔ اس روایت کا اصل موضوع توبہ، ایمان اور عمل صالح ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اہل مکہ نے اپنے پچھلے گناہوں کے بارے میں سوال جیسی کیفیت ظاہر کی۔
  • آیت میں توبہ کے ساتھ ایمان اور نیک عمل کا ذکر آیا۔
  • شرک، قتل اور فحاشی جیسے گناہوں کا ذکر اسی روایت میں ایک ساتھ آیا ہے۔
  • اللہ کی مغفرت کا ذکر آیت کے آخر میں کیا گیا، جیسا کہ حدیث میں نقل ہوا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں