صحیح مسلم حدیث ۴۳ - ثقہ اور غیر ثقہ راوی میں فرق

حدیث میں راوی کے ساتھ اس کے شیوخ کو بھی دیکھا جاتا ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳

حَدَّثَنِي ابْنُ قُهْزَاذَ ، قَالَ : سَمِعْتُ وَهْبًا ، يَقُولُ : عَنِ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : بَقِيَّةُ صَدُوقُ اللِّسَانِ وَلَكِنَّهُ يَأْخُذُ عَمَّنْ أَقْبَلَ وَأَدْبَرَ

عبداللہ بن مبارک روایت:

بقیہ بن ولید بن صائد بن کعب کلاعی سچا ہے لیکن وہ روایت کرتا ہے سب قسم کے لوگوں سے (یعنی ثقہ اور ضعیف کو نہیں دیکھتا اسی وجہ سے اس کو بھی ضعیف کہا ہے محدثین نے)۔

صحیح مسلم حدیث ۴۳ کا خلاصہ

اس اثر میں عبداللہ بن مبارک نے بقیہ کے بارے میں بڑی نپی تلی بات کہی۔ انہوں نے اسے زبان کا سچا کہا، مگر ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ وہ ہر طرح کے لوگوں سے روایت لیتا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حدیث کی سند میں صرف ایک راوی کی ذاتی سچائی کافی نہیں ہوتی۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہ کن لوگوں سے حدیث لے رہا ہے۔ اگر کوئی شخص ثقہ اور کمزور دونوں طرح کے راویوں سے بلا امتیاز روایت کرے تو حدیث کی تحقیق میں اس کی روایات پر مزید غور کیا جاتا ہے۔ اس سے راوی کی ثقاہت، سند کی جانچ، اور حدیث قبول کرنے کے اصول واضح ہوتے ہیں۔ محدثین کسی شخص پر بے وجہ حکم نہیں لگاتے تھے، بلکہ اس کے انداز روایت کو دیکھ کر بات کرتے تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سچا ہونا اہم ہے، مگر حدیث لینے میں راوی کے ذرائع بھی دیکھے جاتے ہیں۔
  • ہر ایک سے روایت لینے والا راوی مزید تحقیق کا محتاج ہو سکتا ہے۔
  • محدثین کسی شخص کی خوبی اور کمزوری دونوں بیان کرتے تھے۔
  • حدیث کی حفاظت میں راوی اور اس کے شیوخ دونوں کی جانچ شامل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں