صحیح مسلم حدیث ۴۴ - جھوٹے راوی کی پہچان

حدیث میں جھوٹے راوی سے بچنے کا اصول

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَارِثُ الأَعْوَرُ الْهَمْدَانِيُّ وَكَانَ كَذَّابًا ،

شعبی روایت:

مجھے حدیث بیان کی حارث الاعور ہمدانی نے حالانکہ وہ جھوٹا تھا۔

صحیح مسلم حدیث ۴۴ کا خلاصہ

اس روایت کا موضوع جھوٹے راوی کی پہچان ہے۔ شعبی بیان کرتے ہیں کہ حارث اعور ہمدانی نے انہیں حدیث بیان کی، حالانکہ وہ جھوٹا تھا۔ یہاں بات مختصر ہے مگر بہت اہم ہے۔ اس میں کسی عام برائی کا ذکر نہیں، بلکہ حدیث روایت کرنے کے معاملے میں راوی کی حالت بتائی گئی ہے۔ محدثین جب کسی راوی کو جھوٹا کہتے تھے تو مقصد لوگوں کو اس کی روایت سے خبردار کرنا ہوتا تھا، نہ کہ ذاتی بدگوئی کرنا۔ اس سے حدیث کی تحقیق، راوی کی جانچ، اور صحیح روایت کی حفاظت کا طریقہ سمجھ میں آتا ہے۔ عام قاری کے لیے سبق یہ ہے کہ دین کے نام پر ہر بات قبول نہ کی جائے۔ خاص طور پر جب کسی راوی کے بارے میں اہل علم نے سخت حکم دیا ہو تو اس کی روایت میں بہت احتیاط کی جاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جھوٹے راوی کی نشاندہی حدیث کی حفاظت کے لیے کی جاتی ہے۔
  • ہر بیان کو صرف نام دیکھ کر قبول نہیں کیا جاتا۔
  • راوی کے بارے میں اہل علم کی گواہی اہم ہوتی ہے۔
  • دین کی بات نقل کرنے میں سچائی بنیادی شرط ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں