صحیح بخاری حدیث ۴۷۸۱ - نبی صلى الله عليه وسلم مومنوں کے سب سے زیادہ قریب ہیں
النبي أولى بالمؤمنين: نبی صلى الله عليه وسلم کا مومنوں سے خاص تعلق
صحیح بخاری : ۴۷۸۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۸۱
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ سورة الأحزاب آية 6 فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ تَرَكَ مَالًا فَلْيَرِثْهُ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانُوا ، فَإِنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَلْيَأْتِنِي فَأَنَا مَوْلَاهُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی مومن ایسا نہیں کہ میں خود اس کے نفس سے بھی زیادہ اس سے اور آخرت میں تعلق نہ رکھتا ہوں، اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو «النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم» کہ ”نبی مؤمنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہے۔“ پس جو مومن بھی (مرنے کے بعد) ترکہ مال و اسباب چھوڑے اور کوئی ان کا ولی وارث نہیں ہے اس کے عزیز و اقارب جو بھی ہوں، اس کے مال کے وارث ہوں گے، لیکن اگر کسی مومن نے کوئی قرض چھوڑا ہے یا اولاد چھوڑی ہے تو وہ میرے پاس آ جائیں ان کا ذمہ دار میں ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی مومن ایسا نہیں جس سے میں دنیا اور آخرت میں سب لوگوں سے زیادہ قریب نہ ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت پڑھنے کی طرف اشارہ فرمایا کہ نبی مومنوں سے ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ اس کے بعد عملی حکم بیان فرمایا کہ جو مومن مال چھوڑ کر مرے، اس کے وارث اس کے مال کے حق دار ہوں گے۔ لیکن اگر وہ قرض یا بے سہارا اولاد چھوڑے تو وہ میرے پاس آئیں، میں ان کا ذمہ دار ہوں۔ اس حدیث کا موضوع نبی صلى الله عليه وسلم کی مومنوں سے شفقت، قرض کی ذمہ داری، وراثت، اور کمزوروں کی دیکھ بھال ہے۔ متن سے یہی بات واضح ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے مومن کے مالی اور خاندانی مسئلے میں ذمہ داری کا اعلان فرمایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم مومنوں کے ساتھ دنیا اور آخرت میں خاص تعلق رکھتے ہیں۔
- مومن کا چھوڑا ہوا مال اس کے وارثوں کو ملے گا۔
- قرض یا بے سہارا اولاد کی صورت میں نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی ذمہ داری بیان فرمائی۔
- کمزور اور ذمہ داری چھوڑ جانے والے گھرانوں کا خیال رکھا گیا۔
