صحیح بخاری حدیث ۲۳۹۸ - میراث اور قرض کی ذمہ داری
میراث اور قرض کی حدیث: مال وارثوں کا، قرض کی ذمہ داری کا بیان
صحیح بخاری : ۲۳۹۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۹۸
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص (اپنے انتقال کے وقت) مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جو قرض چھوڑے تو وہ ہمارے ذمہ ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۳۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو قرض چھوڑے تو وہ ہمارے ذمہ ہے۔ یہاں حدیث کا موضوع میراث اور قرض کی ذمہ داری ہے۔ مال چھوڑنے والے کے مال پر وارثوں کا حق بیان ہوا، اور قرض چھوڑنے کی صورت میں نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی ذمہ داری کا ذکر فرمایا۔ اس حدیث کو سمجھتے وقت ہمیں اسی متن تک بات رکھنی چاہیے: مال وارثوں کے لیے ہے اور قرض کا بوجھ نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی طرف منسوب فرمایا۔ یہ بات امت کے لیے نبی صلى الله عليه وسلم کی شفقت کو بھی دکھاتی ہے، مگر ساتھ ہی قرض کی سنجیدگی بھی سمجھاتی ہے، کیونکہ قرض کو الگ سے ذکر کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مرنے والے کا مال اس کے وارثوں کے لیے بیان ہوا ہے۔
- قرض کو حدیث میں ایک الگ ذمہ داری کے طور پر ذکر کیا گیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے قرض چھوڑنے والے کے معاملے میں اپنی ذمہ داری بیان فرمائی۔
- میراث اور قرض کے مسئلے میں حق داروں کے حقوق کو یاد رکھنا چاہیے۔
