صحیح بخاری حدیث ۴۷۸۴ - سورۃ الاحزاب کی آیت اور خزیمہ انصاری
جمع قرآن اور سورۃ الاحزاب کی آیت: خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کی گواہی
صحیح بخاری : ۴۷۸۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۸۴
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، قَالَ : " لَمَّا نَسَخْنَا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ فَقَدْتُ آيَةً مِنْ سُورَةِ الْأَحْزَابِ كُنْتُ كَثِيرًا أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ إِلَّا مَعَ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ سورة الأحزاب آية 23 " .
زید بن ثابت روایت:
جب ہم قرآن مجید کو مصحف کی صورت میں جمع کر رہے تھے تو مجھے سورۃ الاحزاب کی ایک آیت (کہیں لکھی ہوئی) نہیں مل رہی تھی۔ میں وہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکا تھا۔ آخر وہ مجھے خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی جن کی شہادت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مومن مردوں کی شہادت کے برابر قرار دیا تھا۔ وہ آیت یہ تھی «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه» ”اہل ایمان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اس میں وہ سچے اترے۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۷۸۴ کا خلاصہ
اس روایت میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ جمع قرآن کے زمانے کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ جب صحف کو مصاحف کی صورت میں نقل کیا جا رہا تھا تو انہیں سورۃ الاحزاب کی ایک آیت لکھی ہوئی نہیں مل رہی تھی، حالانکہ وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار سن چکے تھے۔ آخر وہ آیت خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی، جن کی گواہی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مومن مردوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا۔ آیت یہ تھی: اہل ایمان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ سے کیے عہد میں سچے اترے۔ اس حدیث میں جمع قرآن، صحابہ کی احتیاط، آیت کی حفاظت، اور گواہی کا خاص ذکر آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام نے قرآن کو مصحف میں جمع کرتے وقت بہت احتیاط کی۔
- زید بن ثابت رضی اللہ عنہ آیت کو نبی صلى الله عليه وسلم سے سن چکے تھے مگر لکھی ہوئی تلاش کر رہے تھے۔
- آیت خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی۔
- خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو مومن مردوں کی گواہی کے برابر قرار دیا گیا تھا۔
