صحیح بخاری حدیث ۴۷۸۵ - اللہ، رسول اور آخرت کو چننا

اللہ، رسول اور آخرت کا انتخاب: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۸۵

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهَا حِينَ أَمَرَهُ اللَّهُ أَنْ يُخَيِّرَ أَزْوَاجَهُ ، فَبَدَأَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَسْتَعْجِلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ ، وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ " ، قَالَتْ : ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَالَ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ سورة الأحزاب آية 28 إِلَى تَمَامِ الْآيَتَيْنِ " ، فَقُلْتُ لَهُ : فَفِي أَيِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ ، فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ .

عائشہ روایت:

جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ نبی کریم ( صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی ازواج کو (آپ کے سامنے رہنے یا آپ سے علیحدگی کا) اختیار دیں تو آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھی تشریف لے گئے اور فرمایا کہ میں تم سے ایک معاملہ کے متعلق کہنے آیا ہوں ضروری نہیں کہ تم اس میں جلد بازی سے کام لو، اپنے والدین سے بھی مشورہ کر سکتی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو جانتے ہی تھے کہ میرے والد کبھی آپ سے جدائی کا مشورہ نہیں دے سکتے۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «يا أيها النبي قل لأزواجك» کہ ”اے نبی! اپنی بیویوں سے فرما دیجئیے“ آخر آیت تک۔ میں نے عرض کیا، لیکن کس چیز کے لیے مجھے اپنے والدین سے مشورہ کی ضرورت ہے، کھلی ہوئی بات ہے کہ میں اللہ، اس کے رسول اور عالم آخرت کو چاہتی ہوں۔

صحیح بخاری حدیث ۴۷۸۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ اپنی ازواج کو اختیار دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے ان کے پاس تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم سے ایک معاملہ کہنے والا ہوں، تم جلدی نہ کرنا، چاہو تو اپنے والدین سے مشورہ کر لینا۔ آپ جانتے تھے کہ ان کے والدین جدائی کا مشورہ نہیں دیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت تلاوت فرمائی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ اس معاملے میں والدین سے کیا مشورہ کرنا؟ میں اللہ، اس کے رسول، اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہوں۔ یہ حدیث آخرت کو ترجیح دینے، سوچ سمجھ کر جواب دینے، اور دینی انتخاب کی سچائی کو ظاہر کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو جلدی نہ کرنے اور مشورے کی گنجائش دی۔
  • عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ، رسول صلى الله عليه وسلم اور آخرت کو اختیار کیا۔
  • اہم فیصلے میں تحمل اور صاف جواب دونوں اس روایت میں موجود ہیں۔
  • دنیا کی زینت کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینے کا مضمون واضح ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں