صحیح بخاری حدیث ۴۷۸۶ - اللہ اور آخرت کو ترجیح دینے کی حدیث

اللہ اور آخرت کو ترجیح دینے کی حدیث: ازواج مطہرات کا پاکیزہ انتخاب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۸۶

وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي ، فَقَالَ : " إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ " ، قَالَتْ : وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ ، قَالَتْ : ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ ، قَالَ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا إِلَى أَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 28 - 29 ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : فَفِي أَيِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ ، فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ ، قَالَتْ : ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ. تَابَعَهُ مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَأَبُو سُفْيَانَ الْمَعْمَرِيُّ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ

عائشہ روایت:

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اپنی ازواج کو اختیار دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تم سے ایک معاملہ کے متعلق کہنے آیا ہوں، ضروری نہیں کہ تم جلدی کرو، اپنے والدین سے بھی مشورہ لے سکتی ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو معلوم ہی تھا کہ میرے والدین آپ سے جدائی کا کبھی مشورہ نہیں دے سکتے۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (وہ آیت جس میں یہ حکم تھا) پڑھی کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها‏» ”اے نبی! اپنی بیویوں سے فرما دیجئیے کہ اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت کو چاہتی ہو سے «أجرا عظيما‏» تک۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا لیکن اپنے والدین سے مشورہ کی کس بات کے لیے ضرورت ہے، ظاہر ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کو چاہتی ہوں۔ بیان کیا کہ پھر دوسری ازواج مطہرات نے بھی وہی کہا جو میں کہہ چکی تھی۔اس کی متابعت موسیٰ بن اعین نے معمر سے کی ہے کہ ان سے زہری نے بیان کیا کہ انہیں ابوسلمہ نے خبر دی اور عبدالرزاق اور ابوسفیان معمری نے معمر سے بیان کیا، ان سے زہری نے، اور ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۷۸۶ کا خلاصہ

یہ حدیث ازواج مطہرات کے اختیار کے واقعہ کو بہت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو جلدی نہ کرنے اور والدین سے مشورہ کرنے کی اجازت دی، مگر انہوں نے فوراً کہا کہ میں اللہ، اس کے رسول اور آخرت کو چاہتی ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل کامیابی دنیا کی زیب و زینت میں نہیں، بلکہ اللہ کی رضا اور آخرت کی فکر میں ہے۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ جب مسلمان کے سامنے دنیاوی پسند اور دینی راستہ آئے تو وہ سوچ سمجھ کر وہی راستہ چنے جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کرے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کا جواب محبت، یقین اور آخرت کی ترجیح کا خوبصورت نمونہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی معاملے میں جلد بازی کے بجائے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا بہتر ہے۔
  • اللہ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آخرت کی محبت دنیاوی خواہش سے بڑھ کر ہونی چاہیے۔
  • مشورہ کی اجازت دی جا سکتی ہے، مگر حق واضح ہو تو اسے اختیار کرنا بہتر ہے۔
  • ازواج مطہرات نے اللہ اور آخرت کو دنیا کی زینت پر ترجیح دی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں