صحیح بخاری حدیث ۴۷۹۴ - ولیمہ کے بعد گھر کے آداب
ولیمہ کے بعد گھر کے آداب: سلام، دعا اور پردے کی آیت
صحیح بخاری : ۴۷۹۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۹۴
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَنَى بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى حُجَرِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ صَبِيحَةَ بِنَائِهِ ، فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ ، وَيُسَلِّمْنَ عَلَيْهِ ، وَيَدْعُو لَهُنَّ ، وَيَدْعُونَ لَهُ ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ رَأَى رَجُلَيْنِ جَرَى بِهِمَا الْحَدِيثُ ، فَلَمَّا رَآهُمَا رَجَعَ عَنْ بَيْتِهِ ، فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلَانِ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ عَنْ بَيْتِهِ ، وَثَبَا مُسْرِعَيْنِ ، فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ بِخُرُوجِهِمَا أَمْ أُخْبِرَ ، فَرَجَعَ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ وَأَرْخَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، وَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ . وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ، سَمِعَ أَنَسًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح پر دعوت ولیمہ کی اور گوشت اور روٹی لوگوں کو کھلائی۔ پھر امہات المؤمنین کے حجروں کی طرف گئے، جیسا کہ آپ کا معمول تھا کہ نکاح کی صبح کو آپ جایا کرتے تھے، آپ انہیں سلام کرتے اور ان کے حق میں دعا کرتے اور امہات المؤمنین بھی آپ کو سلام کرتیں اور آپ کے لیے دعا کرتیں۔امہات المؤمنین کے حجروں سے جب آپ اپنے حجرہ میں واپس تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ دو آدمی آپس میں گفتگو کر رہے ہیں۔ جب آپ نے انہیں بیٹھے ہوئے دیکھا تو پھر آپ حجرہ سے نکل گئے۔ ان دونوں نے جب دیکھا کہ اللہ کے نبی اپنے حجرہ سے واپس چلے گئے ہیں تو بڑی جلدی جلدی وہ اٹھ کر باہر نکل گئے۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے چلے جانے کی اطلاع دی یا کسی اور نے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور گھر میں آتے ہی دروازہ کا پردہ گرا لیا اور آیت حجاب نازل ہوئی۔اور سعید ابن ابی مریم نے بیان کیا کہ ہم کو یحی ٰبن کثیر نے خبر دی، کہا مجھ سے حمید طویل نے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۹۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ کے بعد کا ایک نرم اور خوبصورت انداز بیان ہوا ہے۔ آپ نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے نکاح پر لوگوں کو گوشت اور روٹی کھلائی۔ پھر امہات المؤمنین کے حجروں کی طرف گئے، انہیں سلام کیا اور ان کے لیے دعا فرمائی۔ وہ بھی سلام کرتیں اور دعا دیتیں۔ جب آپ اپنے حجرہ میں آئے تو دو آدمی گفتگو میں بیٹھے تھے۔ آپ انہیں دیکھ کر واپس چلے گئے۔ جب وہ جلدی سے نکل گئے تو آپ واپس آئے، اندر تشریف لے گئے اور پردہ گرا دیا، پھر آیت حجاب نازل ہوئی۔ اس حدیث میں ولیمہ کے آداب، سلام، دعا، حیا اور میزبان کے حق کا خیال سب ایک ساتھ بیان ہوئے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ولیمہ میں مہمان نوازی کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
- سلام اور دعا گھر والوں کے ساتھ اچھا اور پاکیزہ طریقہ ہے۔
- مہمان کو میزبان کے اشارے اور حالت کو سمجھنا چاہیے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حیا کے ساتھ معاملہ کیا۔
