صحیح بخاری حدیث ۴۷۹۳ - ولیمہ، حیا اور آیت حجاب
ولیمہ زینب بنت جحش حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم کی حیا اور آیت حجاب
صحیح بخاری : ۴۷۹۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۹۳
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بُنِيَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ بِخُبْزٍ وَلَحْمٍ ، فَأُرْسِلْتُ عَلَى الطَّعَامِ دَاعِيًا ، فَيَجِيءُ قَوْمٌ ، فَيَأْكُلُونَ وَيَخْرُجُونَ ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ فَيَأْكُلُونَ وَيَخْرُجُونَ ، فَدَعَوْتُ حَتَّى مَا أَجِدُ أَحَدًا أَدْعُو ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا أَجِدُ أَحَدًا أَدْعُوهُ ، قَالَ : " ارْفَعُوا طَعَامَكُمْ " ، وَبَقِيَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْبَيْتِ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقَ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ ، فَقَالَ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " ، فَقَالَتْ : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ ، فَتَقَرَّى حُجَرَ نِسَائِهِ كُلِّهِنَّ ، يَقُولُ لَهُنَّ كَمَا يَقُولُ لِعَائِشَةَ ، وَيَقُلْنَ لَهُ كَمَا ، قَالَتْ عَائِشَةُ : ثُمَّ رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا ثَلَاثَةٌ مِنْ رَهْطٍ فِي الْبَيْتِ يَتَحَدَّثُونَ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدَ الْحَيَاءِ ، فَخَرَجَ مُنْطَلِقًا نَحْوَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ، فَمَا أَدْرِي أَخْبَرْتُهُ أَوْ أُخْبِرَ أَنَّ الْقَوْمَ خَرَجُوا ، فَرَجَعَ حَتَّى إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي أُسْكُفَّةِ الْبَابِ دَاخِلَةً وَأُخْرَى خَارِجَةً أَرْخَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد (بطور ولیمہ) گوشت اور روٹی تیار کروائی اور مجھے کھانے پر لوگوں کو بلانے کے لیے بھیجا، پھر کچھ لوگ آئے اور کھا کر واپس چلے گئے۔ پھر دوسرے لوگ آئے اور کھا کر واپس چلے، میں بلاتا رہا۔ آخر جب کوئی باقی نہیں رہا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اب تو کوئی باقی نہیں رہا جس کو میں دعوت دوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب دستر خوان اٹھا لو لیکن تین اشخاص گھر میں باتیں کرتے رہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل آئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے سامنے جا کر فرمایا السلام علیکم اہل البیت ورحمۃ اللہ۔ انہوں نے کہا وعلیک السلام ورحمۃ اللہ، اپنی اہل کو آپ نے کیسا پایا؟ اللہ برکت عطا فرمائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح تمام ازواج مطہرات کے حجروں کے سامنے گئے اور جس طرح عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا اس طرح سب سے فرمایا اور انہوں نے بھی عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرح جواب دیا۔اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو وہ تین آدمی اب بھی گھر میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ حیاء دار تھے، آپ (یہ دیکھ کر کہ لوگ اب بھی بیٹھے ہوئے ہیں) عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کی طرف پھر چلے گئے، مجھے یاد نہیں کہ اس کے بعد میں نے یا کسی اور نے آپ کو جا کر خبر کی کہ اب وہ تینوں آدمی روانہ ہو چکے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اب واپس تشریف لائے اور پاؤں چوکھٹ پر رکھا۔ ابھی آپ کا ایک پاؤں اندر تھا اور ایک پاؤں باہر کہ آپ نے پردہ گرا لیا اور پردہ کی آیت نازل ہوئی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۹۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے نکاح کے بعد ولیمہ کا تفصیلی واقعہ آیا ہے۔ گوشت اور روٹی تیار ہوئے، انس رضی اللہ عنہ لوگوں کو بلاتے رہے، لوگ آتے، کھاتے اور چلے جاتے۔ آخر میں تین آدمی گھر میں بیٹھ کر باتیں کرتے رہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت حیادار تھے، اس لیے آپ نے انہیں سختی سے نہ اٹھایا بلکہ باہر تشریف لے گئے۔ جب وہ چلے گئے تو آپ واپس آئے اور پردہ گرا دیا، پھر آیت حجاب نازل ہوئی۔ اس حدیث کا موضوع صرف پردہ نہیں بلکہ مہمان کے آداب، میزبان کی تکلیف کا خیال، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیا بھی ہے۔ یہ روایت ہمیں سکھاتی ہے کہ مجلس میں وقت اور موقع سمجھنا بھی اچھے اخلاق میں شامل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ولیمہ میں مہمان کو کھانے کے بعد میزبان کا خیال رکھنا چاہیے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ حیادار تھے۔
- بلا ضرورت بیٹھے رہنا میزبان کے لیے تکلیف کا سبب بن سکتا ہے۔
- پردے کی آیت اس واقعے کے بعد نازل ہوئی۔
